غزہ میں تشدد بغیر کسی شرط کے فوراً بند کیا جائے: بان کی مون

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ چودہ دنوں کے اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری تشدد اب بند ہونا چاہیے۔

بان کی مون غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے مصری وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی عالمی کوششوں جاری ہیں جہاں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھی موجود ہیں۔

ادھر قطر میں فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کے رہنما خالد مشعل سے ملاقات کریں گے جس میں جنگ بندی سے متعلق تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے پیر کو بھی غزہ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک ہسپتال پر حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے۔

فلسطینی ذرائع اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں کی مسلسل بمباری سے ہسپتال کے استقبالیہ، انتہائی نگہداشت کے شعبے اور آپریشن تھیٹروں کو نقصان پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے میں شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’ظالمانہ اقدام‘ قرار دیا

غزہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات کو اسرائیلی حملوں میں دو فلسطینی گھرانوں کے 30 سے زائد افراد مارے گئے۔

اِس دوران حماس نے بھی اسرائیل پر مزید راکٹ حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ دس عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جو صدورت کے قصبے کے قریب سرنگ کے راستے اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ چودہ دنوں کے اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی میں اب تک وہ 170 سے زائد عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا چکا ہے ، جبکہ اس دوران 20 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں 18 فوجی تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ’ایک دوسرے پر حملوں میں فوری کمی ‘ کرنے پر زور دیا ہے، تاہم سلامتی کونسل نے عرب ممالک کی حمایت سے تیار کی جانے والی اس قرارداد کی توثیق نہیں کی جس میں اسرائیل کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

اس سے قبل سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے میں شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’ظالمانہ اقدام‘ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور تشدد کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔

اسی بارے میں