غزہ: ہسپتال پر اسرائیلی گولہ باری، پانچ ہلاک درجنوں زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دو فلسطینی گھرانوں کے 30 سے زائد افراد مارے گئے ہیں

اتوار کی شدید ترین گولہ باری کے بعد پیر کو بھی غزہ پر اسرائیل نے بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہسپتال پر حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی ذرائع اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں کی مسلسل بمباری سے ہسپتال کے استقبالیہ، انتہائی نگہداشت کے شعبے اور آپریشن تھیٹروں کو نقصان پہنچا ہے۔

غزہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات کو اسرائیلی حملوں میں دو فلسطینی گھرانوں کے 30 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔

اِس دوران حماس نے بھی اسرائیل پر مزید راکٹ حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ دس عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جو صدورت کے قصبے کے قریب سرنگ کے راستے اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ چودہ دنوں کے اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی میں اب تک وہ 170 سے زائد عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا چکا ہے ، جبکہ اس دوران 20 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں 18 فوجی تھے۔

غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع الاقصا ہسپتال پر اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری کے بعد فلسطینی ٹی وی پر زخمیوں کا علاج معالجے ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے لوگوں کی اکثریت خو ڈاکٹروں پر مشتمل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمی ہونے والے لوگوں کی اکثریت خو ڈاکٹروں پر مشتمل ہے

غزہ میں بی بی سی کی نامہ نگار یولانڈے نیل کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ہسپتال میں موجود مریضوں کو وہاں سے نکالنے میں مدد دے۔ نامہ نگار کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے مشرقی علاقوں میں زمینی کارروائی سے پہلے ارد گرد کے علاقوں کے مکینوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے دیارالبلاح کی جانب چلے جائیں۔

ادھر امریکی وزیرِخارجہ جان کیری مصر میں مذاکرات کرنے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرائی جا سکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ’ایک دوسرے پر حملوں میں فوری کمی ‘ کرنے پر زور دیا ہے، تاہم سلامتی کونسل نے عرب ممالک کی حمایت سے تیار کی جانے والی اس قرارداد کی توثیق نہیں کی جس میں اسرائیل کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

اس سے قبل سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے میں شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’ظالمانہ اقدام‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور تشدد کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ایک خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک اسرائیلی سکیورٹی بحال نہیں ہو جاتی۔

Image caption خان یونس میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہوئے

یاد رہے کہ غزہ پر گذشتہ کئی دنوں سے جاری اسرائیلی گولہ باری اتوار کو انتہائی شدید ہو گئی تھی اور اس دن غزہ میں کم از کم 100 افراد مارے گئے جن میں سے 67 افراد شجائیہ میں ہلاک ہوئے تھے۔ 13 دنوں میں فلسطینی ہلاکتوں کی کُل تعداد اب 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ شجائیہ میں ہونے والی اموات ایک ’قتل عام‘ ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل صرف دہشگردوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور انہیں غزہ کے عام شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔

فلسطینی ایمرجنسی سروس کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ اتوار کو مارے جانے والے سو افراد میں ایک ہی گھرانے کے نو افراد بھی شامل تھے جو کہ مصر کی سرحد کے ساتھ واقع قصبے پر اسرائیلی گولہ باری میں ہلاک ہوئے۔

اسی طرح غزہ کے جنوب میں خان یونس میں اسرائیلی فضائیہ نے ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس میں 23 افراد ہلاک ہو گئے جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ اس خاندان کے ایک فرد صابری ابو جامیعہ نے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ کیا اس سے صاف ظاہر نہیں ہوتا کہ اسرائیل ظالم ہے؟ کیا ہم لوگ جھوٹ بول رہے ہیں؟ اسرائیل کے ظلم کا ثبوت یہاں مردہ خانے کے فریجوں میں موجود ہے۔‘

اتوار کو شجائیہ کے نواح میں حماس کے راکٹ اڈوں اور دہشگردوں کی سرنگوں کو تباہ کرنے کی غرض سے آنے کے بعد، پیر کی صبح بھی اسرائیلی ٹینکوں نے گرد و نواح میں شدید گولہ باری کی ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کی شدید گولہ باری سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس کے خلاف زمینی کارروائی کا دائرہ بڑھا دیا ہے، تاہم اس اعلان کے دو گھنٹے بعد اسرائیل نے شجائیہ میں انسانی بنیادوں پر دو گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا، لیکن یہ عارضی جنگ بندی محض ایک گھنٹے بعد ہی ختم ہو گئی تھی اور دونوں جانب سے گولہ باری شروع ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں