’ایران نے تمام افزودہ یورینیئم تلف کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات ستمبر میں دوبارہ شروع ہوں گے

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری بم بنانے کے لیے درکار حد تک افزودہ تمام یورینیئم بےضرر بنا دیا ہے۔

یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں طے شدہ معاہدے کا حصہ تھا جس کے تحت ایران کو اس کے 20 فیصد تک افزدوہ یورینیئم کو ناکارہ بنانا تھا۔

’ایران اپنے تمام وعدے پورے کر رہا ہے‘

گذشتہ ہفتے امریکہ نے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے تکمیل پر ایران کے دو ارب 80 کروڑ ڈالر کے منجمد اثاثے آزاد کر دے گا۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات میں چار ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں اس پر عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی ہے۔

چھ عالمی طاقتیں امریکہ، فرانس، روس، چین، جرمنی اور برطانیہ کو شبہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایران ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چھ عالمی طاقتیں امریکہ، فرانس، روس، چین، جرمنی اور برطانیہ کو شبہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایران ان الزامات سے انکار کرتا ہے

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افزودہ یورینیئم کے ذخائر کی تلفی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران کے رہنما سفارتی عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کی ایک دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے دیگر تمام وعدے بھی پورے کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم تیزی سے جوہری بم بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی 200 کلوگرام مقدار ایک ایٹم بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات ستمبر میں دوبارہ شروع ہوں گے۔

کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات میں ایران کے تیل کی فروخت پر عائد پابندی اٹھانے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

اسی بارے میں