غزہ میں اسرائیلی فوجی لاپتہ، سفارتی کوششوں میں تیزی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 14 دنوں کے اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے

اسرائیل میں مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ایک اسرائیلی فوجی لاپتہ ہو گیا ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہے۔

اسرائیل کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز غزہ شہر کے علاقے شجائیہ کے قریب مارے جانے والے سات فوجیوں میں سے ایک کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان فوجیوں کی ہلاکت گاڑی پر حملے کی وجہ سے ہوئی۔

اسرائیل کی جانب سے 14 روز قبل حماس سے منسلک جنگجؤوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن میں اب تک 600 کے قریب فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 29 ہے جن میں 27 فوجی اہلکار شامل ہیں۔

اپنے بیان میں اسرائیل کے دفاعی حکام نے بتایا ہے کہ ’ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کی شناخت اور تصدیق کا عمل مکمل ہو گیا ہے، ساتویں فوجی کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔‘

یاد رہے کہ حماس نے اتوار کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک اسرائیلی فوجی کو حراست میں لے رکھا ہے تاہم اسرائیلی حکام نے اس خبر کی تردید کی تھی۔

ادھر غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ قاہرہ میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات اسی کا حصہ ہے۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکہ کو فلسطینیوں کی ہلاکت پر تشویش ہے تاہم وہ درست اور موزوں فوجی آپریشن کی حمایت کرتا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری تشدد بند ہونا چاہیے۔

بان کی مون غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے مصری وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔

ادھر قطر میں فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کے رہنما خالد مشعل سے ملاقات کریں گے جس میں جنگ بندی سے متعلق تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

حملے جاری

دوسری جانب اسرائیل نے پیر کو بھی غزہ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک ہسپتال میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے۔

فلسطینی ذرائع اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں کی مسلسل بمباری سے ہسپتال کی استقبالیہ، انتہائی نگہداشت کے شعبے اور آپریشن تھیٹروں کو نقصان پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے میں شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’ظالمانہ اقدام‘ قرار دیا

غزہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات کو اسرائیلی حملوں میں دو فلسطینی گھرانوں کے 30 سے زائد افراد مارے گئے۔

اِس دوران حماس نے بھی اسرائیل پر مزید راکٹ حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ دس عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جو صدورت کے قصبے کے قریب سرنگ کے راستے اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ چودہ دنوں کے اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی میں اب تک وہ 170 سے زائد عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ اس دوران 20 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں 18 فوجی تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ’ایک دوسرے پر حملوں میں فوری کمی‘ کرنے پر زور دیا ہے، تاہم سلامتی کونسل نے عرب ممالک کی حمایت سے تیار کی جانے والی اس قرارداد کی توثیق نہیں کی جس میں اسرائیل کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

اس سے قبل سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے میں شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’ظالمانہ اقدام‘ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور تشدد کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔

اسی بارے میں