انڈونیشیا میں صدر کے نام کا اعلان متوقع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوکو ویدودو (بائیں) اور پرابوو سوبیانتو(دائیں) کے درمیان صدارتی انتخاب میں سخت مقابلہ ہوا

انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات میں دونوں امیدواروں کی جانب سے جیت کے دعووں کے درمیان صدر کے نام کا اعلان ہونے والا ہے۔

نو جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جکارتہ کے مقبول گورنر جوکو ویدودو کو تقریباً تمام جائزوں میں آگے بتایا گیا ہے۔ لیکن ان کے حریف پرابووو سوبیانتو کا کہنا ہے کہ دوسرے بہت سے جائزوں نے ان کی کامیابی کی بات کہی ہے۔

یاد رہے کہ سوبیانتو فوجی آمر سوہارتو کے زمانے میں جنرل رہ چکے ہیں۔

ان کے دعوے کے بعد سے الیکشن کمیشن نتائج کی چھان بین کر رہا ہے۔ دریں اثنا موجودہ صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو نے دونوں امیدواروں سے انتخابات کے نتائج کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔

انتخابات کے نتائج کے اعلان سے مخالف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان تشدد کے پھوٹ پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے ملک بھر میں انتخابات کے اعلان کے سے قبل ڈھائی لاکھ سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption صدر کے نام کے اعلان سے قبل تشدد کے پیش نظر زبردستی حفاظتی اقدام کیے جا رہے ہیں

گذشتہ دو ہفتے کے دوران دونوں امیدواروں نے ووٹنگ میں دھاندلی پر خدشات کا اظہار کیا ہے اور اس دوران تقریباً پانچ لاکھ پولنگ سٹیشنوں سے حاصل ہونے والے ووٹوں کی پڑتال کی جا رہی ہے۔

قابل اعتماد سروے ویدودو کی جیت کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور انھیں پانچ فیصد پوائنٹ کی سبقت دکھائی گئی ہے۔

صوبائی اور ضلعی سطح پر جاری کیے جانے والے سرکاری نتائج میں بھی ویدودو کی جیت کے اشارے مل رہے ہیں اور انھیں تین سے پانچ پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے۔

لیکن سوبیانتو خیمے کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک نتائج کو نہیں مانیں گے جب تک ووٹنگ میں دھاندلیوں کی جانچ نہیں ہو جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈونیشیا کے صدر نے دونوں امیدواروں سے نتائج کو تسلیم کرنے کی اپیل کی ہے

اتوار کو اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سوبیانتو نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ووٹنگ میں مبینہ دھاندلی کی جانچ نہیں کرتا تو یہ ایک ’جرم ہے اور پورے انتخابی عمل کے جواز پر سوالیہ نشان ہے۔‘

انھوں نے الیکشن کمیشن سے انتخابات کے نتائج میں تاخیر کی اپیل کی ہے جسے کمیشن نے مسترد کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ زبردست انتخابی مہم کے بعد نو جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ ووٹ ڈالے گئے تھے۔

اسی بارے میں