جوکو وڈوڈو کو انڈونیشیا کے انتخابات میں سبقت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جوکو وڈوڈو شہری اور دیہی نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں

الیکشن کمشن نے باقاعدہ طور پر نتائج کا علان ابھی تک نہیں کیا ہے لیکن ایک ابتدائی گنتی کے مطابق وڈوڈو 53.15 فیصد ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ عارضی نتائج کا علان آج رات انڈونیشیا کے مقامی وقت آٹھ بجے ہو گا۔

ان کے حریف سابق جنرل پرابووہ سبیانتو کو 46.85 فیصد ووٹ حاصل ہیں لیکن انھوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے باوجود جوکو وڈوڈو کے حمایتیوں نے ٹوئٹر پر ٹویٹس کا سیلاب شروع کیا ہے جس میں وہ ’پریزیڈنبارو‘ یا نیا صدر کے ہیش ٹیگ سے وڈوڈو کے لیے مبارکباد کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

جوکو وڈوڈو ملک کے شہری اور دیہی نوجوانوں میں خاص طور پر مقبول ثابت ہوئے ہیں اور ان کی یہ مقبولیت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ انڈونیشیا اپنے استبدادانہ ماضی سے ایک فیصلہ کن فاصلہ قائم کر چکا ہے۔ جبکہ برابووہ ایک سابق جنرل ہیں جن کا ملک کے روایتی شرفا سے قریبی تعلق ہے سے اور انھیں میڈیا کی اہم شخصیتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وڈوڈو کے حریف پرابووہ سبیانتو نے ٹی وی پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے

نو جولائی کو ایک شدید انتخابی مہم کے بعد تقریباً 13 کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً پانچ لاکھ پولنگ اسٹیشنوں سے بیلٹ وصول کیے گیے۔ اس دوران ووٹنگ میں بے قاعدگیوں کے بارے میں دونوں امیدواروں نے پریشانی کا اظہار کیا تھا۔

دونوں کیمپوں کے حمایتیوں کے درمیان تشدد کے خوف کے نتیجے میں ملک بھر میں 25 لاکھ سے زیادہ پولیس افسران تعینات کیے گئے تھے۔

منگل کے روزسبیانتو نےکہا تھا کہ ان کا کیمپ دنگا فساد نہیں کرے گا کیونکہ اس سے الیکشن کے نتائج چیلنج ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں