غزہ: 600 سے زائد ہلاکتیں، ’لڑائی روک کر بات چیت کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بان کی مون نے اسرائیل سے بھی کارروایاں محدود کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے کہا ہے کہ وہ غزہ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے لڑائی روک کر بات چیت شروع کریں۔

یہ بات انھوں نے اسرائیل کی جانب سے سفارتی کوششوں میں تیزی آنے کے بعد کہی۔ غزہ میں 14 روز سے جاری لڑائی میں 600 فلسطینی اور 29 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی فوجی لاپتہ

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے کم کرے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’فوجی کارروائی اسرائیل کی سلامتی کا دور رس حل نہیں ہے۔‘

انھوں نے فلسطینیوں سے بھی ’عدم تشدد، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سابقہ معاہدوں کے احترام‘ کا مطالبہ کیا۔

بان کی مون کے بیان کا جواب دیتے ہوئے نتن یاہو نے کہا ’ہم حماس کی کون سی شکایت دور کر سکتے ہیں؟ ان کی شکایت تو ہماری موجودگی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غزہ کی وزراتِ صحت کے مطابق اب تک 3640 افراد زخمی ہو چکے ہیں

اس سے قبل امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ مصر کی جانب سے تجویز کردہ ایک منصوبے سے جنگ بندی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

مصر میں بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ امریکہ کو فلسطینی ہلاکتوں پر تشویش ہے لیکن انھوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائی کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ غزہ کے لیے چار کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امداد بھیجے گا تاکہ انسانی بحران کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

ممکن ہے کہ جان کیری بدھ تک قاہرہ میں ہی رکیں گے اور مصری حکام اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی سے بات چیت کریں گے۔

غزہ کی وزراتِ صحت کے مطابق اب تک 3640 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے ایک کیمپ میں ایک لاکھ افراد نے پناہ لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل نے غزہ میں فضائی حملوں کے بعد اب زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے

اسی بارے میں