’حقانی نیٹ ورک کے خلاف ضرب عضب کارگر نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضرب عضب میں شدت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے

افغانستان کے لیے نئے امریکی فوجی کمانڈر جنرل جوزف ڈینفرڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج کے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن سے امریکی توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں کیونکہ وہاں موجود حقانی نیٹ ورک کے خلاف یہ آپریشن کارگر ثابت نہیں ہوا۔

امریکی کانگریس میں حال ہی میں بیان دیتے ہوئے جنرل جوزف ڈینفرڈ نے کہا کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کر دیا ہے اور وہ کئی سالوں سے ایسا کرنا چاہ رہے تھے۔

امریکہ جنگ کے اخراجات جاری رکھے: طارق فاطمی

’ہماری معلومات کے مطابق انھیں پاکستانی طالبان اور ازبک شدت پسندوں کے خلاف کچھ حد تک کامیابی بھی ملی ہے، تاہم حقانی نیٹ ورک کے خلاف وہ کامیابی نہیں ملی جو ہم دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں میں اس حد تک ضرور خلل پڑا ہے کہ ان کو میران شاہ میں اپنے ٹھکانوں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔‘

امریکہ آج بھی حقانی نیٹ ورک کو مہلک قوت تصور کرتا ہے۔ اس نے ستمبر 2012 میں اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

تنظیم کے بانی جلال الدین حقانی طویل عرصے سے علیل ہیں اور خیال ہے کہ آج کل اس کی باگ ڈور ان کے برخوردار سراج الدین حقانی نے سنبھال رکھی ہے۔

جلال الدین کا ایک بیٹا برہان الدین امریکی ڈرون حملے میں جبکہ دوسرے بیٹے نصیر الدین حقانی کو گذشتہ برس نومبر میں اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ہلاکت کو تجزیہ نگاروں نے پہلی مرتبہ پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی مبینہ پشت پناہی سے ہاتھ کھینچنے کے مترادف تصور کیا تھا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے لوگ فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل ہی شمالی وزیرستان سے نکل گئے تھے: ’میرا خیال ہے کہ کارروائی سے پہلے انھیں اطلاع ہو گئی تھی لہٰذا ان کی اکثریت وہاں سے چلی گئی تھی۔‘

پاکستان فوج نے ضرب عضب کے نام سے شمالی وزیرستان میں بڑی فوجی کارروائی گذشتہ ماہ شروع کی تھی۔ پاکستان فوج کے مطابق یہ فوجی آپریشن بڑی کامیابی سے جاری ہے اور بہت سے علاقوں کو شدت پسندوں سے پاک کرا لیا گیا ہے اور سینکڑوں شدت پسندوں کو ہلاک بھی کر دیا گیا ہے۔

امریکہ پاکستان سے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا مطالبہ کئی برس سے کرتا آ رہا ہے۔

کئی مبصرین سوال کرتے ہیں کہ آیا کسی علاقے سے بیدخل کر دینے سے حقانی نیٹ ورک کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا یا یہ نقل مکانی عارضی ثابت ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائِے خارجہ امور طارق فاطمی جو واشنگٹن کے دورے پر ہیں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی خواہش ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد بھی امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی جاری رکھے۔

طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ اگلے ایک دو برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جو مقصد ہے وہ حاصل نہیں ہوتا اور پاکستان اس جنگ میں اپنی مدد جاری رکھتا ہے تو ان کی امید ہوگی کہ امریکہ پہلے کی طرح ہی اس خرچ کو جاری رکھے۔

گذشتہ برسوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو رقم خرچ کی ہے وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پاکستان کو واپس کی جاتی رہی ہے۔

اسی بارے میں