غزہ: حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد حماس نے کنکریٹ کے بنکروں کی ایک بھول بھلیاں بنانا شروع کر دی

غزہ میں سرنگوں کا استعمال تقریباً 15 سال پہلے مصر کی سرحد کے نزدیک شروع ہوا جب حماس نے غیر قانونی طور پر اسلحہ سمگل کرنا شروع کر دیا۔

کچھ ہی عرصے میں ان سرنگوں سے عام شہریوں کے لیے روز مرہ کے استعمال کی اشیا بھی غزہ کے اندر جانے لگیں۔

اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے نکل جانے کے بعد ان سرنگوں کی تعداد سو سے تجاوز کر کے ہزاروں تک پہنچ گئی اور بہت سے لوگ ان کے ذریعے کی جانے والی تجارت میں ملوث ہو گئے۔

ادھر حماس کی حکومت نے ان درآمدی اشیا پر ٹیکس لاگو کرنا شروع کر دیے جو کہ ان کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ بن گیا۔

گذشتہ برس جب مصری فوج نے مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو نئے حکمرانوں نے ان سرنگوں کو بند کر دیا۔ یہ اقدام غزہ میں اقتصادی بحران کی وجہ بنا۔

2001 میں فلسطینیوں نے بارود سے بھری سرنگوں کو اسرائیلی سرحدوں کے نزدیک موجود چوکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا، تاہم ان حملوں کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی کیوں کہ یہ حملے اسرائیلی فوجیوں کو غیر معمولی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے تھے اور سرنگوں کے اس طرح کے استعمال سے میں نقصان زیادہ اور فوائد کم تھے۔

2006 میں فلسطینیوں نے نیا انداز اپنایا۔ انھوں نے غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے نیچے سرنگ بنائی جو اسرائیلی فوجی چوکی کے بالکل پاس جا کر نکلی۔ فلسطینی حملہ آوروں نے اس حملے سے اسرائیلی فوجیوں پر اچانک حملہ کر دیا، جس سے دو اسرائیلی فوجی مارے گئے، ایک زخمی ہوا، جبکہ گیلاد شالت نامی ایک اور فوجی کو یرغمال بنا لیا گیا۔ غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد حماس نے کنکریٹ کے بنکروں کی ایک بھول بھلیاں بنانا شروع کر دی جن کے داخلی اور خارجی راستوں کو ان سرنگوں سے اور غزہ کے اندر رہائشی علاقوں سے جوڑ دیا گیا۔ یہ زیرِ زمین راستے جنوبی ویتنام کے جنگلوں میں موجود ویت کانگ کی سرنگوں کے طرز پر بنائے گئے ہیں تاہم ان سرنگوں میں ویتنام کے برعکس زیادہ بہتر سہولیات موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان سرنگوں کی گہرائی عمومًا 65 فٹ ہوتی ہے اور ان سرنگوں کے تعین کے بعد بھی ان کو مکمل طور پر تباہ کرنا آسان کام نہیں ہے

ان سرنگوں کے داخلی اور خارجی راستے دھماکہ خیز مواد مواد سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس ترکیب کا استعمال سب سے پہلے 2008 میں کیا گیا اور اس کی کامیابی کے بعد اس منصوبے میں توسیع کر دی گئی۔ نومبر 2012 میں حماس کے راکٹ حملوں کی ناکامی کے بعد انھوں نے ان سرنگوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جس کا مقصد اسرائیلی بستیوں تک رسائی تھی۔

اسرائیلی افواج کو حماس کی اس حکمتِ عملی کا علم تھا تاہم وہ زیادہ تر سرنگوں کو ڈھونڈنے اور تباہ کرنے میں ناکام رہے۔ ان سرنگوں کا کھوج لگانے کی لیے سرنگ کے داخلی راستوں کا تعین کیا جاتا ہے یا پھر ریڈار کے ذریعے ان کی نشاندہی کی جاتی ہے، لیکن سرنگوں کے داخلی راستے ملنے کے بعد بھی ان کی لمبائی کا اندازہ لگانا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

ان سرنگوں کی اوسطاً گہرائی 65 فٹ ہوتی ہے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد بھی ان کو مکمل طور پر تباہ آسان کام نہیں ہے۔ ان سرنگوں کے راستوں کے تعین کے لیے اسرائیل کو غزہ کے اندر غیر معمولی انٹیلی جنس درکار ہوتی ہے۔

اسی بارے میں