الجزائر کی قومی فضائی کمپنی کا طیارہ لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ swiftair
Image caption ایئر لائن کے ایک اہلکار کے مطابق ایئر الجیئرز نے ضابطے کے مطابق ہنگامی پلان پر کام شروع کر دیا ہے

الجزائر کی قومی فضائی کمپنی کا اپنے ایک طیارے سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔

یہ طیارہ بورکینا فاسو کے دارالحکومت واگا ڈوگو سے دارالحکومت الجیئرز کے لیے پرواز کر رہا تھا کہ پرواز کے 50 منٹ کے بعد اس سے رابطہ کٹ گیا۔

الجیریا کے ہوابازی محکمے کے حکام نے تصیلات دیے بغیر کہا کہ یہ طیارہ گر گیا ہے۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایئر لائن کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس طیارے سے ’گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات ایک بج کر 55 منٹ پر آخری بار رابطہ ہوا تھا۔‘

اس پرواز کا کال سائن AH 5017 تھا اور حکام کے مطابق اس پر 110 مسافر اور عملے کے چھ افراد سوار تھے۔ اس طیارے کو سپین کی فضائی کمپنی سوفٹ ایئر کی جانب سے چارٹر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طیارے کے پائلٹ نے نائجر کے شہر نیامی میں کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرکے بتایا کہ اس نے طوفان کی وجہ سے اپنا راستہ تبدیل کیا۔

ائیر الجیریا کے مطابق طیارے کے مسافروں میں 50 فرانسیسی شہری ہیں۔ بی بی سی کے مغربی افریقہ کے نامہ نگار ٹامس فیسی کا کہنا ہے کہ فرنسیسی مسافر اکثر اس فضائی راستے سے آتے جاتے ہیں۔

فرانس کے شہری ہوا بازی کے ادارے نے کہا ہے کہ اس نے پیرس اور مارسے میں کرائسز سینٹر بنائے ہیں۔

ایئر الجیریا کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ طیارے پر سوار مسافروں میں 24 کا تعلق بورکینو فاسو سے تھا جبکہ آٹھ لبنانی، چار الجیریائی، دو لیگزم برگ کے شہری، ایک بیلجیئم کا شہری، ایک سوئس، ایک نائجیریئن، ایک کیمرون کا شہری، ایک یوکرینی اور ایک رومانیہ کا باشندہ تھا۔

تاہم لبنان میں حکام کا کہنا ہے کہ طیارے پر ان کے دس شہری سفر کر رہے تھے۔

بعد میں ایک ایک الجیریائی سرکای اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ یہ طیارہ گر گیا ہے۔‘ تاہم انھوں نے مزید نہیں بتایا کہ طیارے کو کیا ہوا۔

اطلاعات کے مطابق الجیریا کے وزیرِ اعظم عبدالمالک سلیل نے الجیریا کے ریڈیو کو بتایا کہ ’طیارہ الجیریا کی سرحد سے تقریباً 500 کلو میٹر کے فاصلے پر مالی میں گاؤ کی فضائی حدود میں لاپتہ ہوا۔‘

ایئر لائن کے ایک اہلکار کے مطابق ایئر الجیئرز نے ضابطے کے مطابق ہنگامی پلان پر کام شروع کر دیا ہے۔

مالی کے دارالحکومت باماکو میں بی بی سی کے نامہ نگار الیکس ڈیوال سمتھ کے مطابق مالی میں اقوامِ متحدہ کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق یہ طیارہ گاؤ اور تیصالات کے درمیان گرا ہے۔

علاقے میں اقوامِ متحدہ کی فوج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل کاکو ایسین نے بی بی سی کو بتایا کہ الجیریا کی سرحد تک مالی کا یہ وسیع علاقہ ہے جس میں بستیاں ایک دوسرے سے دور دور آباد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں رات کو موسم خراب تھا اور مسلح گروپ بھی اس علاقے میں متحرک ہیں۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ طیارہ خراب موسم کی وجہ سے گرا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایئر الجیریا کے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’طیارہ الجیریا کی سرحد سے زیادہ دور نہیں تھا کہ خراب موسم کی وجہ سے طیارے کو دوسرے طیارے سے ٹکرانے کے خطرے کے پیشِ نظر مڑنے کا کہا گیا۔‘

ذرائع نے بتایا کہ ’جب طیارے نے راستہ تبدیل کر لیا تو اس کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا۔‘

دریں اثنا سوفٹ ایئر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ طیارہ میک ڈونلڈ ڈگلس یعنی MD83 تھا اور اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایئر الجیئرز کا بوئنگ 737 طیارہ چھ مارچ 2003 کو دارالحکومت الجیئرز کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں سوار 102 افراد ہلاک ہو گئے اور صرف ایک شخص بچ پایا تھا۔

اسی بارے میں