’ہمارے پاس ایس اے 11 بک میزائل نہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الیگزینڈر بوردائی نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ ان کے ساتھیوں نے متاثرین کی لاشوں کو نظر انداز کیا

یوکرین میں روس کے حامی باغیوں کے رہنما نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے پاس بک میزائل ہیں ہی نہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ باغیوں نے روس سے حاصل کردہ بک میزائل کی مدد سے ملائیشیا ائیر لائن کی پرواز ایم ایچ 17 کو نشانہ بنایا تھا۔

دونیتسک کے خود ساختہ وزیراعظم الیگزینڈر بوردائی کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس اگر کوئی شواہد ملتے ہیں تو وہ جھوٹے ہوں گے۔

ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ روسی سرحد میں داخل ہونے سے قبل گر کر تباہ ہو گئی۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مسافر بردار جہاز اپنے معمول کے راستے پر اڑتے ہوئے میزائل لگنے سے گرا تھا اور اسے روس کے حامی باغیوں نے نشانہ بنایا تھا۔

یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 283 مسافر اور عملے کے 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نیدرلینڈز کے شہری تھے۔

الیگزینڈر بوردائی نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ ان کے ساتھیوں نے متاثرین کی لاشوں کو نظر انداز کیا۔

انھوں نے کہا کہ جائے حادثہ کے قریب روسی ساختہ ایس اے 11 بک میزائل سسٹم موجود نہیں ہے۔ مغربی ممالک کے انٹیلی جنس افسران کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ اسی ہتھیار کی مدد سے گرایا گیا ہے۔

ابتدا میں جب انھیں بتایا گیا تھا کہ کچھ ایسی تصاویر موجود ہیں جن میں ایک قریبی قصبے میں بک میزائل سسٹم دیکھا جا سکتا ہے تو انھوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام تصاویر جعلی ہیں۔

باغی فورسز پر لاشوں کا خیال نہ رکھنے کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ تاہم الیگزینڈر بوردائی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مبصرین نے ان کے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاشوں کو اٹھانے کے عمل کو ماہرین کے لیے چھوڑ دیں۔

لڑاکا طیارے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ باغی اپنے ٹھکانے چھوڑ کر دونیتسک کے مرکزی علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں

یاد رہے کہ دوسری جانب ایک روز قبل ہی یوکرین میں روس کے حامی باغیوں نے یوکرین کی فضائیہ کے دو لڑاکا طیاروں کو اسی علاقے میں مار گرایا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے یوکرین کی فوج کے ملٹری آپریشن کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں لڑاکا طیاروں کو شکترسکائی کے علاقے میں سیور موگیلا کے قبرستان کے قریب مار گرایا گیا۔ اسی جگہ جنگ عظیم دوم کی ایک یادگار قائم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان لڑاکا طیاروں کے ہوا بازوں کے بارے میں علم نہیں ہو سکا۔

یوکرین کے مشرقی شہر دونیتسک میں باغیوں کے کمانڈر ایگور سٹرلکوف نے کہا کہ علیحدگی پسند باغیوں نے ایک طیارے کو مار گرایا اور پائلٹ طیارے سے چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو گیا مگر انھوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

دونیتسک اور لوہانسک کے قریب باغیوں اور یوکرین کی فوج میں شدید لڑائی ہوئی۔ یوکرین کی فوج نے اردگرد کے دیہات اور علاقے خالی کراتے ہوئے باغیوں کو اس علاقے میں دھکیل دیا ہے۔

قبل ازیں منگل کو یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ باغی اپنے ٹھکانے چھوڑ کر دونیتسک کے مرکزی علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

شہر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ باغی جنھوں نے اپریل میں روسی زبان بولے جانے والے علاقوں میں کیئف سے آزادی کے لیے لڑائی شروع کی تھی دونیتسک کی یونیورسٹی کے باہر مورچے بنا رہے ہیں اور یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔

دونیتسک کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے ایک کیمیکل پلانٹ پر بھی بم گرا ہے۔

طبی عملے کے مطابق کیئف میں کشیدگی کے شروع ہونے سے اب تک اس علاقے میں 432 افراد ہلاک اور 1015 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں