جنگ بندی میں مزید 24 گھنٹوں کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں 1000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی میں مزید 24 گھنٹوں کی توسیع منظور کر لی ہے۔

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے اس اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی درخواست پر مزید 24 گھنٹوں کے لیے کابینہ نے جنگ بندی کی تجویز منظور کر لی ہے تاہم جنگ بندی کے دوران فوج کو کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے اگر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی کی مدت میں مزید چار گھنٹے کی توسیع پر اتفاق کیا تھا جو سنیچر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر 12 گھنٹوں کی جنگ بندی میں اضافہ تھا۔

دریں اثنا فلسطینی علاقے غزہ میں 19 روز سے جاری اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے جس میں مزید اضافہ جنگ بندی کے دوران ملبے تلے دبی مزید لاشوں کے نکالنے کے عمل کے بعد ہو رہا ہے۔

اب تک ہلاک ہونے والے 1000 سے زیادہ فلسطینیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں دوسری جانب 39 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔

خیال رہے کہ غزہ میں 12 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان اسے دھمکی کے چند گھنٹے بعد میں آیا ہے جس میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ غزہ میں بہت جلد زمینی کارروائی پھیلا دی جائے گی۔

اسرائیل کی دفاعی افواج کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم نے حماس کی جانب سے داغے جانے والے متعدد راکٹوں کو راستے میں ہی روک لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ مرنے والے زیادہ تر عام فلسطینی شہری تھے جبکہ اسرائیل کے ہلاک ہونے والوں میں 33 اسرائیلی فوجی اہلکار تھے

دریں اثنا غزہ میں جاری لڑائی کے 18 روز جہاں ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے وہیں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں بھی تیز تر ہو رہی ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے قاہرہ میں مصر کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد جان کیری کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ بنیامین نتن یاہو غزہ میں جاری بحران کا حل ڈھونڈنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ میں سات دنوں کے لیے عارضی جنگ بندی ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے سات دنوں کے دوران فریقین کے پاس موقع ہو گا کہ وہ تشدد ختم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔

جان کیری کے مطابق وہ سنیچر کو پیرس جائیں گے جہاں غزہ میں جنگ بندی کے لیے مزید مذاکرات کریں گے۔

پیرس میں ہونے والے ان مذاکرات میں یورپی یونین، برطانیہ، جرمنی، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔

ادھر غزہ میں گذشتہ رات اسرائیلی فوج نے فضائی حملے اور شیلنگ جاری رکھی جبکہ حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کے قصبوں میں الارم بجائے گئے۔

غزہ مرنے والے زیادہ تر عام فلسطینی شہری تھے جبکہ اسرائیل کے ہلاک ہونے والوں میں 33 اسرائیلی فوجی اہلکار تھے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے شہر رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف مظاہرے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے شہر رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف مظاہرے کیے

اطلاعات کے مطابق اس مظاہرے میں کم از کم دس ہزار افراد شریک تھے جنھوں نے رام اللہ سے مشرقی یروشلم کی جانب مارچ کیا۔

مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسز نے ان کو روکنے کی کوشش کی جس کے باعث تصادم میں دو فلسطینی ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

جنگ کی وجہ سے غزہ میں بسنے والے لوگوں کے لیے 40 فیصد علاقہ ’نوگو ایریا‘ یا ممنوعہ علاقہ بن گیا ہے اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والے ایک سکول پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری کی وجہ سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوگئے ہیں۔

جب بیت الحین میں واقع سکول توپ کے گولوں کی زد میں آیا تو اس وقت وہاں سینکڑوں فلسطینی موجود تھے۔ غزہ میں اسرائیلی آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

یہ چوتھا موقع ہے جب حماس کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اقوام متحدہ کی کسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس کے مطابق 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے افراد کو خوراک کی قلت اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

اسی بارے میں