غزہ بحران پر جرمنی منقسم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جرمنی میں ہولوکاسٹ کی ندامت کی وجہ سے اسرائیل کی حمایت کرنا لازم سمجھا جاتا ہے

جرمنی میں غزہ بحران کی پہلی جھلک جمعہ کے روز برلن میں نظر آئی۔

قریباً بارہ سو فلسطین کے حامی مظاہرین غزہ کو آزاد کرانے کے پوسٹر اٹھائے برلن کی مشہور کوڈیم بولیوارڈ کی ڈیزائنر دکانوں کے پاس سےگزر رہے ہیں۔

مظاہرین کی اکثریت جرمنی کے مسلمان شہریوں کی تھی۔ مظاہرے میں شریک عورتیں نے سروں پر ہیڈ سکارف پہن رکھےتھے جبکہ مظاہرین کا لیڈر لواؤڈ سپیکر پر قرآنی الفاظ کو دہرا رہا تھا۔

لیکن اسی مقام پر اسرائیل کے سینکڑوں حامی بھی جمع ہیں۔ دونوں طرف کے مظاہرین نے غزہ کی آزادی کے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ مسلمان مظاہرین اسرائیل سے غزہ کی آزادی چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل کے حامی حماس سے غزہ کی آزادی چاہتے ہیں۔

دونوں گروہوں میں جذباتی نوجوان بھی موجود تھے اور کئی بار جھگڑے کی نوبت آئی لیکن پولیس کی بڑی نفری ہر قسم کے واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔

جرمنی میں ہولوکاسٹ کی ندامت کی وجہ سے اسرائیل کی حمایت کرنا لازم سمجھا جانا شروع ہوگیا تھا اور اسرائیل کی موجودگی سے حوالے کوئی بھی مطالبہ ہمیشہ مسترد کر دیا جاتا رہا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی کئی جرمن غزہ میں جاری بحران اور مرنے والوں کی تعداد سے پریشان ہیں اور وہ اسرائیل کے اقدامات سے اتفاق نہیں کرتے۔

کافی جرمن اب خود سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا وہ یہود مخالف سمجھے بغیر اسرائیلی ریاست پر تنقید کر سکتے ہیں؟ مذید یہ کہ نازی ورثے کا خیال رکھتے ہوئے کیا وہ اسرائیل کو کچھ کہہ سکتے ہیں؟ کچھ جرمن مبصرین کا کہنا ہے کہ ’نہیں۔‘

اس موضوع پر بائیں بازو کے لوگ خاص طور پر منقسیم ہیں۔ کہ کیا انھیں یہود مخالفت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیں یا کہ فلسطینی متاثرین کے حق میں بولنا چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ میں جاری تنازعے سے جرمنی کی بائیں بازو جماعتیں اس مشکل میں ہیں کہ فلسطینیوں کی حمایت کی جائے یا یہود مخالفت کے خلاف بولا جائے۔

اس معاملے میں دائیں بازو کے انتہا پسند بھی منقسم ہیں۔

ماضی میں اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں میں یہود مخالف کا اظہار کیا جاتا رہا ہے لیکن جرمنی کے دائیں بازو کو مسلمان تارکین وطن بھی پسند نہیں ہیں۔

اس کے نتیجے ملک میں کچھ پریشان کن اتحاد قائم ہونے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں