جنگی جرائم: ’داعش کو فہرست میں شامل کیا جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں افراد یا تنظیموں کی فہرست پہلی بار سکیورٹی کونسل اور میڈیا کو دکھائی گئی

شام میں جنگی جرائم کی تفتیش کرنے والے اقوام متحدہ کے چیف تفتیش کار کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کو شام میں مبینہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے چیف تفتیش کار پاؤلو پنہیرو نے کہا ’داعش کے جنگجو کے خلاف کیس کافی مضبوط ہے۔‘

پاؤلو کا اشارہ شام میں شدت پسند گروہ دولتِ اسلامی عراق و شام (داعش) کی جانب سے کھلے عام پھانسیوں اور قتل کرنے کی جانب تھا۔

جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں افراد یا تنظیموں کی فہرست پہلی بار سکیورٹی کونسل اور میڈیا کو دکھائی گئی۔

پاؤلو کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم کی فہرست میں داعش کے ساتھ ساتھ حکومتی اہلکاروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

پاؤلو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم تمام فریقین کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں بشمول غیر ریاستی مسلح گفرہوں اور داعش کے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ انسانی حقوق کی خلف ورزیاں کرنے کا ورلڈ کپ کون جیتے گا۔ دونوں فریقین خوفناک حرکات کر رہے ہیں اور وہ کرتے رہیں گے اگر ان کا احتساب نہیں کیا گیا۔‘".

اسی بارے میں