جنگ بندی میں مزید 24 گھنٹوں کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں 1000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی میں مزید 24 گھنٹوں کی توسیع منظور کر لی ہے۔

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے اس اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی درخواست پر مزید 24 گھنٹوں کے لیے کابینہ نے جنگ بندی کی تجویز منظور کر لی ہے تاہم جنگ بندی کے دوران فوج کو کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے اگر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی کی مدت میں مزید چار گھنٹے کی توسیع پر اتفاق کیا تھا جو سنیچر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر 12 گھنٹوں کی جنگ بندی میں اضافہ تھا۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی صرف اسی صورت میں قبول کرے جب اسرائیلی فوجیں غزہ سے نکل جائیں گی اور بے گھر ہونے والے افراد کو لوٹنے کی اجازت دی جائے گی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں موجود سرنگوں کے خاتمے کا آپریشن اس دوران جاری رکھے گا۔

حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سابقہ وقفوں کے دوران مزید حملوں کی تیار کرتا رہا ہے اور سینیچر کو اس نے جنگ بندی کی خلاف ورمیاں کیں۔

غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق 19 روز سے جاری اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 1033 سے تجاوز کر گئی ہے جس میں مزید اضافہ جنگ بندی کے دوران ملبے تلے دبی مزید لاشوں کے نکالنے کے عمل کے بعد ہو رہا ہے۔

وزارت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سینیچر کو ملبے تلے سے 150 مزید لاشیں نکالی گئیں۔

اب تک ہلاک ہونے والے 1033 سے زیادہ فلسطینیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں دوسری جانب سینیچر کو 2 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اب تک اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلییوں کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ مرنے والے زیادہ تر عام فلسطینی شہری تھے جبکہ اسرائیل کے ہلاک ہونے والوں میں 33 اسرائیلی فوجی اہلکار تھے

ان 42 افراد میں سے دو عام اسرائیلی شہری جبکہ ایک تھائی مزدور شامل ہے۔

خیال رہے کہ غزہ میں 12 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان اسے دھمکی کے چند گھنٹے بعد میں آیا تھا جس میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ غزہ میں بہت جلد زمینی کارروائی پھیلا دی جائے گی۔

جان کیری جو اب تک مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں موجود تھے جہاں انہوں نے جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں قاہرہ سے سنیچر کو پیرس پہنچے جہاں انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مزید مذاکرات میں شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے شہر رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف مظاہرے کیے

پیرس میں ہونے والے ان مذاکرات میں یورپی یونین، برطانیہ، جرمنی، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔

جنگ کی وجہ سے غزہ میں بسنے والے لوگوں کے لیے 40 فیصد علاقہ ’نوگو ایریا‘ یا ممنوعہ علاقہ بن گیا ہے اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس کے مطابق 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے افراد کو خوراک کی قلت اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

اسی بارے میں