ناروے میں زیر تعلیم درجنوں ایرانی طالبعلموں کے ویزے منسوخ

Image caption متاثرہ طالب علموں کی حمایت میں یونیورسٹی کے طالب علموں اور لیکچرروں نے احتجاج کئے۔

ناروے کی اعلی درجے کے علمی ادارے، نورویجین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این ٹی این یو) نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ناروے میں مقیم درجنوں ایرانی طالب علموں کے رہائشی اجازت ناموں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

ستائیس سالہ حمیدہ قفش جو این ٹی این یو سے ’میٹریل انجینیرنگ‘ میں اپنی پی ایچ ڈی شروع کرنے والی تھیں، کہتی ہیں کہ ’میں نے جب پہلی بار یہ خبر سنی تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔‘

حمیدہ ان دس ایرانی طالب علموں میں سے ہیں جن کو حالیہ مہینوں میں ناروے کے امیگریشن ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ملک چھوڑنے کا خط موصول ہوا ہے۔

ناروے کی پولیس اور سیکورٹی سروس کے مطابق یہ طلبا حساس ٹیکنالوجی ایران منتقل کرسکتے ہیں جس سے ایران اپنی جوہری پروگرام کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔ ناروے کی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ ناروے کسی بھی طریقے سے ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔

تاہم حمیدہ کا کہنا ہے کہ ان کی پڑھائی کا جوہری صنعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کا پراجیکٹ ماحول کے لیے فائدہ مند ہے جو اب ایران میں لاگو ہو رہا ہے۔

حمیدہ کی یونیورسٹی این ٹی این یو نے ان کے لیے اپیل درج کرائی ہے۔ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی طلباء متاثر ہوئے ہیں اور انھوں نے بھی امیگریشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

حمیدہ اور ان کے دوستوں نے بھی فیصلہ منسوخ کرانے کے لیے مہم شروع کی ہے۔ انھوں نے فیس بک پیج، آن لائن پٹیشن اور ملک بھر کے یونیورسٹی کیمپسوں میں احتجاج کیا ہے جن میں طالب علموں اور اساتذا نے شرکت کی ہے۔

این ٹی این یو کے مٹیریلز سائنس اور انیجینئرنگ سیکشن کے سربراہ جوستائین مادالن نے کہا ہے کہ ’ہمیں امیگریشن کا یہ فیصلہ بے بنیاد اور غلط لگتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ان کے ڈپارٹمنٹ کا کام ’ڈبلیو ایم ڈی یا ایٹمی توانائی یا اس طرح کسی چیز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

نارویجن پولیس سیکورٹی سروس نے تبصرہ دینے سے انکار کیا ہے لیکن جون میں دیےگئے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ ناروے میں پڑھنے کے درجنوں خواہشمند ایرانی طالب علموں کو اس سال ویزہ نہیں ملا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ’2013 میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر ہم نے تقریباً 60 طالب علموں اور محققین کی درخواستیں نامنظور کرنے کا مشورہ دیا۔‘

Image caption حمیدہ کہتی ہیں کہ ان کی پڑھائی کا جوہری صنعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ناروے میں تقریباً 200 ایرانی این ٹی این یو میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سینکڑوں ملک کے دیگر اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔

این ٹی این یو کے ایک پی ایچ ڈی طالب کے مطابق ’ایرانیوں کے خلاف ایک بہت منفی ماحول قائم ہو چکا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ناویجین کمپنیاں اب ہمیں نوکری نہیں دیں گی۔ ہماری ملازمت کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں کیونکہ آجروں کو معلوم ہے کہ ایرانیوں کو کام کرنے کا اجازت نامہ یا ویزہ نہیں ملے گا۔‘

پروفیسر موان تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بی بی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بدقسمتی ہے کیونکہ ہم چاہیں گے کہ ایرانی طالب علموں کو ملازمت ملیں لیکن ہم ایک مختلف صورت حال میں ہیں جہاں ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔‘

حمیدہ کی اپیل کے نتائج کا ایرانی طلباء اور نارویجین لیکچررز کو بہت دلچسپی سے انتظار ہے۔

اسی بارے میں