کھلونے نہیں آگ اگلتے ٹینک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد اور اس کے تین کزن ہلاک ہو گئے تھے

شام اور غزہ میں جاری لڑائی کا بچوں پر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے۔ بی بی سی کی نمائندہ لیز ڈوسٹ جو چھ شامی بچوں کی زندگیوں اور ان کے ساتھ گزرنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں حال ہی میں غزہ سے لوٹی ہیں۔ اس مضمون میں وہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ جنگ سے متاثرہ ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا۔

’ٹی وی پر دیکھے گئے مناظر کو آپ اس طرح محسوس نہیں کر سکتے جس طرح یہ اصل زندگی میں رونما ہوتے ہیں۔‘

بارہ سالہ سید کنکریٹ کی دیوار کو اس طرح گھور رہا تھا جیسے اس کی نظر اس دیوار میں شگاف ڈال دے گی اور وہ اس کے ذریعے اپنی زندگی سے فرار ہونےمیں کامیاب ہو جائے گا۔‘

’جب ہم ایمبولینس میں سوار ہوئے تو مجھے احساس ہوا کہ اس کی جان بچ جائے گی اور یہ سوچ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا۔‘

جب ہم ہسپتال پہنچے اس کا چھوٹا بھائی محمد ہلاک ہو چکا تھا۔ 16 جولائی کے اس منحوس دن غزہ کی بندرہ گاہ کے قریب جب اسرائیلی فوج نے علاقے پر دو مرتبہ بمباری کی اس کے تین کزن بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غزہ کے بچے خوف اور خوراک کی کمی میں زندگیاں گزار رہے ہیں

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا لیکن غزہ ایک ایسا گنجان آباد اور خطرناک علاقہ ہے جہاں بچوں کے لیے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

حماس اور دوسرے شدت پسند گروپ اس اسرائیلی الزام کی تردید کرتے ہیں کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ عمارتوں کے اندر اور کھلی جگہوں سے راکٹ داغے جا رہے ہیں۔

اس دور کی جنگیں تباہ کن ہوتی ہیں اور یہ گلی کوچوں اور سکولوں میں لڑی جاتی ہیں جن کے بعد کچھ باقی نہیں رہتا۔

بڑی تعداد میں بچے ہلاک ہوتے ہیں اور زندہ رہ جانے والے بچوں کا بچپن تباہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ غزہ میں ہر ایک گھنٹے میں ایک بچہ ہلاک ہو رہا ہے۔

عالمی خبروں میں غزہ کے آنے سے پہلے شام کے بچے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے تھے۔

شام میں جاری تباہ کن جنگ کو اب چار سال ہو چکے ہیں اور ہر بچہ نشانچیوں کی زد میں ہے۔ شیر خوار بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لاکھوں بچے بھوک اور خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور بہت سے محصور علاقوں میں مصیبتوں کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تباہی کے درمیان شام کے شہر حلب میں پانی سے بھرے بموں کے گڑہوں میں بچے کھیلتے ہیں۔

ہر مرتبہ شام سے آنےکے بعد مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ بچے اپنے دل گھائل کر دینے والے آنسوں اور طنزیہ مسکراہٹوں کے ساتھ اپنی عمر سے پہلے بڑے ہو گئے ہیں۔ جنگ کے محاذوں پر یہ بچے اس دور کی پیچیدہ جنگوں کے بارے میں اپنی اپنی دل ہلا دینے والی کہانیاں سناتے ہیں۔

گزشتہ چھ ماہ میں، میں نے اور ہمارے ڈائریکٹر کیمرہ مین رابن بارنویل نے چھ شامی بچوں پر گزرنے والے واقعات پر نظر رکھی۔ ان کی کہانیاں ان کی قوم کا سماجی اور سیاسی خاکہ پیش کرتی ہیں اور اس کے ہولناک مستقبل کی جھلک دکھاتی ہیں۔

نو سالہ عزالدین سنجیدہ انداز میں کہتے ہیں کہ وہ بظاہر ایک بچے ہیں لیکن تجربات اور ذہنی لحاظ سے نہیں۔ پہلے بارہ سال کی عمر تک کے بچوں کو بچے ہی تصور کیا جاتا تھا لیکن اب بارہ سالہ بچے کو جہاد پر جانا پڑتا ہے۔

عزالدین جنوبی ترکی میں ایک مہاجر کیمپ میں رہ رہے ہیں جہاں شام کے باغی گروہ فری سیرین آرمی کا کنٹرول ہے اور ان کا بڑا بھائی بھی سرحد پار جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔

ہزاروں میل دور دمشق میں چودہ سالہ جلال کی دنیا صدر اسد کے حامیوں کی ہے اور ان کے والد اور چچا بھی علاقے کے دفاعی دستوں میں شامل ہیں۔

جلال کو افسوس ہے کہ اس بحران نے ان کی زندگی بدل ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب سیاست کو سمجھتے ہیں اور اس پر بات کرتے ہیں اور وہ اپنے ملک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہیں۔

جلال اور عزالدین اس تقسیم کے آر پار ہیں اور اپنے پرانے دوستوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان کا ذہن بدل دیا گیا ہے۔

مریم کی عمر نو سال ہے انھیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ انھیں کیوں اپنی ٹانگ گنوانی پڑی کیونکہ بشار الاسد حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔

انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب شامی فضائیہ کے ایک جہاز نے حمص شہر کے باہر ان کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غزہ میں چھ سال اور اس سے زیادہ عمر کے بچے تین اور اس سے زیادہ جنگوں کا تجربہ رکھتے ہیں

’ہمارے گھر میں ایک بڑی سی کھڑکی تھی اور میں باہر دیکھ رہی تھی جب شامی فضائیہ کا ایک جہاز سیدھا ان کے گھر کی سمت آیا اور ایک بیرل گرایا اور چلا گیا۔‘

آٹھ سالہ بشرا جن کا خاندان حمص شہر کے محصور حصوں سے بھاگ کر آیا ہے کہتی ہیں کہ وہ پڑھنے لکھنے کے بجائے اب مختلف قسم کے ہتھیاروں کے بارے میں علم رکھتی ہیں۔ ’میں گولیوں کے نام جانتی ہوں، ٹریسر کیا ہوتی ہیں ربر بلٹ کیا ہوتی ہیں۔‘

ہم دمشق کے قریب فلسطینوں کے کیمپ یرموک میں تیرہ سالہ کیف سے ملے۔

لیکن یہ بچہ اس وقت رو پڑا جب ہم نے اس سے پوچھا کہ اسے کھانے کو کچھ ملا ہے۔ کیف نے آنسوں اور سسکیوں میں بتایا کہ روٹی میسر نہیں ہے۔

جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے عام زندگی کے مطلب مختلف ہیں۔

غزہ کے علاقے زیتون میں ایک بڑے خاندان کے سربراہ آمر اودا سے میں نے پوچھا کہ کیا بچے خوف زدہ ہیں۔

ہر عمر کا بچے ان کے پیچھے سڑہیوں کے نیچے بیٹھا تھا اور کچھ بچے فرش پر ان کے سامنے بیٹھے تھے

ان کے علاقے میں اسرائیل فوج کے ٹینکوں اور توپوں کے بم گرنے کے دھماکے ہو رہے تھے اور حماس کی طرف سے جوابی راکٹوں کی شوں شوں کی خوفناک آوازیں آ رہی تھیں۔

آمر اودا نے اسرائیل کی طرف سے علاقے چھوڑ دینے کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے 45 افراد کے اپنے کنبے کے ساتھ یہیں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ غزہ میں رہنے والے دوسرے لوگوں کی طرف وہ بھی پوچھتے ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں۔

انھوں نے چار سالہ بچی کو اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے معمول بن گیا ہے۔ یہ بس یہی جانتے ہیں۔ غزہ میں چھ سال سے بڑے ہر بچے کو تین یا اس سے زیادہ حملوں کا تجربہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنگ زدہ ان علاقوں میں بچے اپنی عمر سے زیادہ سمجھ کی باتیں کرتے ہیں

چار سالہ دیما بھی دو جنگیں دیکھ چکی ہیں۔ بچے اکثر اپنی عمر سے زیادہ سمجھ کی باتیں کرتے ہیں۔ غزہ میں ایک ہی خاندان کے تین بچے اسرائیل کی طرف سے خبردار کرنے کے لیے کیے گئےحملے جسے وہ ’چھت پر دستک‘ کہتے ہیں ہلاک ہو گئے۔ وہ اپنے گھر کی چھت پر کبوتروں سے کھیل رہے تھے۔

میں نے جب بندرگاہ کے قریب چار بچوں کی ہلاکت کی خبر دی تو مجھے عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ ساحل پر لوہے اور دہاتی اشیا کی تلاش کر رہے تھے تاکہ اپنے گھر والوں کی کفالت کر سکیں۔

ان کے والد ماہی گیر ہیں اور انھیں اپنی کشتیوں میں کھلے سمندوں میں ماہی گیری کی اجازت نہیں ہے۔

اسی بارے میں