ایم ایچ 17: ’طیارہ میزائل کے ٹکڑے کی وجہ سے گرا‘

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے درمیان گر کر تباہ ہوا

یوکرین میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا ایئر لائن کا مشرقی یوکرین میں گر کر تباہ ہونے والا طیارہ میزائل کا ٹکڑا لگنے اور اس کے نتیجے میں طیارے کے اندر ہوا کے دباؤ میں شدید کمی کے باعث گرا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ معلومات طیارے کا فائلٹ ڈیٹا ریکارڈر کی مدد سے ملی ہیں جو کہ برطانوی ماہرین کے زیرِ غور ہے۔

تاہم اب تک یہ واضی نہیں کہ یہ میزائل کس نے داغہ۔ دوسری جانب یوکرین کی حکومت اور مشرقی یوکرین میں روس حامی باغی اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ روسی سرحد میں داخل ہونے سے قبل گر کر تباہ ہو گئی۔

یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 283 مسافر اور عملے کے 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نیدرلینڈز کے شہری تھے۔

اس واقعے کی تفتیش کرنے والے ہالینڈ کے تفتیش کاروں نے اس سلسلے میں یوکرینی دعوں کے بارے میں بیان دینے سے انکار کیا ہے۔

دریں اثنا یہ دوسرا دو ہے جب علاقے میں شدید لڑائی کی وجہ سے آسٹریلوی اور ہالینڈ کے تفتیش کار جائے وقوع تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغی فورسز پر لاشوں کا خیال نہ رکھنے کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی ہے

یاد رہے کہ یوکرین میں روس کے حامی باغیوں کے رہنما نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے پاس بک میزائل ہیں ہی نہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ باغیوں نے روس سے حاصل کردہ بک میزائل کی مدد سے ملائیشیا ائیر لائن کی پرواز ایم ایچ 17 کو نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جائے حادثہ کے قریب روسی ساختہ ایس اے 11 بک میزائل سسٹم موجود نہیں ہے۔ مغربی ممالک کے انٹیلی جنس افسران کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ اسی ہتھیار کی مدد سے گرایا گیا ہے۔

ابتدا میں جب انھیں بتایا گیا تھا کہ کچھ ایسی تصاویر موجود ہیں جن میں ایک قریبی قصبے میں بک میزائل سسٹم دیکھا جا سکتا ہے تو انھوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام تصاویر جعلی ہیں۔

باغی فورسز پر لاشوں کا خیال نہ رکھنے کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ تاہم الیگزینڈر بوردائی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مبصرین نے ان کے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاشوں کو اٹھانے کے عمل کو ماہرین کے لیے چھوڑ دیں۔

ادھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی چیف ناوی پلے کہہ چکی ہیں کہ ملائیشیا ایئر لائن کا طیارہ گرایا جانا ’جنگی جرائم‘ یصور کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں