غزہ میں عارضی جنگ بندی مگر عید سوگوار

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption یہ فوری، غیر مشروط اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا موقع ہے، انسانیت کے نام پر تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے، بان کی مون

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی کی اپیل کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں تھوڑی دیر کی خاموشی کے دوران فلسطینی عوام نے سوگوار فضا میں عید منائی۔

اسرائیل کے فوجی ترجمان لیفٹینینٹ کرنل پیٹر لرنر کے مطابق سلامتی کونسل کی جانب سےفوری فائر بندی کے مطالبے کے بعد حماس کے ساتھ لڑائی میں رات بھر قدرے خاموشی رہی۔

’حماس کی جانب سے فائر کیے گئے ایک راکٹ کے جواب میں اسرائیل نے بھی صرف ایک ہی راکٹ فائر کیا۔‘

دوسری جانب غزہ میں محمکہ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک 4 سالہ بچہ ہلاک ہوا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نےایک بار پھر غزہ میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’جیسا کہ دنیا میں عید الفطر منائی جا رہی ہے، یہ موقع ہے فوری،غیر مشروط اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا ،انسانیت کے نام پر تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘

نامہ نگار رشدی ابواولاف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ’غزہ سے نقل مکانی کرنے والے چند فلسطینی عید کے دن اپنے تباہ حال مکانوں کو دیکھنے گھروں کو لوٹے اور یہاں عید کا مذہبی تہوار بہت محدود ہے، عام دنوں میں یہاں کے لوگ اس موقع پر اپنے رشتے داروں کے گھر جاتے ہیں اور بچے گلیوں میں کھیلتے ہیں۔‘

نامہ نگاروں کے مطابق غزہ کی اجڑی بستی کے رہائشی اس بار اپنے مذہبی تہوار عیدالفطر پر اپنے تباہ شدہ گھروں، اپنے پیاروں کی قبروں، کیمپ نما سکولوں، اور ہسپتاوں میں کراہتے مریضوں کے درمیان ہیں۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام سکول میں مقیم ایک بچے اشرف زید کا کہنا تھا کہ’گھر میں عید کا تہوار اس سے کہیں اچھا ہوتا تھا عید اچھی ہوتی ہے جنگ اچھی نہیں ہوتی،جیسی اب ہے۔‘

لیکن بچوں کے برعکس بڑے خوشی کے اس دن زیادہ غمزدہ اور مایوس نظرآ رہے ہیں۔ ہسپتال میں اپنے زخمی بیٹے کے ساتھ موجود قاسم کا کہنا ہے کہ یہ عید نہیں ایک دھچکا ہے۔

’یہ عید عید نہیں، ہم اسے عید نہیں کہ سکتے، یہ تو ایک صدمہ ہے، کیونکہ جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا، کبھی کسی انسان نے نہیں کیا۔‘

Image caption غزہ میں عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں

اسرائیل اور حماس کے درمیان سینیچر کو ہوئے فائر بندی معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی مدت میں اضافے کی کوششیں جاری ہیں۔ غزہ اسرائیل تنازع میں اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں مسلمانوں کے سالانہ تہوار عیدالفطر پر اور ’اس کے بعد کے دنوں میں‘ اسرائیل اور حماس سے ’غزہ میں انسانی بنیادوں پر غیر مشروط فوری جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

اس بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ’شہری اور انسانی سہولتیں بشمول اقوام متحدہ کے ذریعے فراہم کی جانے والی امدادی اشیا کا احترام اور تحفظ کیا جائے۔‘

بیان میں غزہ میں ’انسانی بنیادوں پر فلسطینی شہریوں کو فوری امداد‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا گيا ہے۔

اس اجلاس میں سلامتی کونسل کے موجودہ صدر ملک راوانڈ کی طرف سے پیش کردہ اعلامیہ کی توثیق کی گئی جس میں ’پائیدار‘ جنگ بندی کے لیے مصر کی تجویز پر عمل درآمد کے لیے کہا گیا ہے جس کے تحت لڑائی میں وقفے سے غزہ کے مستقبل کے بارے میں نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو جائے گا اور جس میں غزہ کے سرحدی راستے کھولنے پر بھی بات چیت شامل ہو۔

اعلامیے میں ’سویلین اور امدادی اداروں بشمول اقوامِ متحدہ کی سہولیات کو تحفظ فراہم کرنے پر بھی‘ زور دیا گیا۔

اس پہلے امریکی صدر براک اوباما نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل اتوار کو اسرائیل نے غزہ پر مزید حملے کیے جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ داغے اور فریقین نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔

اسی بارے میں