سلامتی کونسل کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حماس نے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جسے اسرائیل نے مسترد کر دیا تھا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ہونے والے ایک اہم اجلاس میں اسرائیل اور حماس سے ’غزہ میں انسانی بنیادوں پر غیر مشروط فوری جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک ہنگامی اجلاس میں مسلمانوں کے اہم تہوار عیدالفطر پر اور ’اس کے بعد کے دنوں میں‘ جنگ بندی کے مطالبے کی منظوری دی گئی۔

اس بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ’شہری اور انسانی سہولتیں بشمول اقوام متحدہ کے ذریعے فراہم کی جانے والی امدادی اشیا کا احترام اور تحفظ کیا جائے۔‘

بیان میں غزہ میں ’انسانی بنیادوں پر فلسطینی شہریوں کو فوری امداد‘ کی ضرورت پر زور دیا گيا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطین اور اسرائیل دونوں نے مختلف اور علیحدہ وجوہات کے سبب اقوام متحدہ کے بیان پر نکتہ چینی کی ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے کہا کہ اس اعلامیے میں زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہ کہ ایک باضابطہ قراداد کی ضرورت ہے جس میں اسرائیل کی غزہ سے واپسی کا مطالبہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’انھیں (یواین) بہت پہلے اس جارحیت کے خلاف قرارداد لانی چاہیے تھے اور اس جارحیت کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔‘

اسرائیل کے لیے بات کرتے ہوئے رون پروسر نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو متعصب قرار دیا۔ انھوں نے کہا: ’حیرت انگیز طور پر اس میں حماس کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں راکٹ فائر کیے جانے کا ذکر نہیں۔ یہ چیزیں اس بیان میں نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غزہ میں عید کے موقعے پر خوشیوں کے بجائے زیادہ تر ایسے ہی مناظر نظر آتے ہیں

غزہ سے ہمارے نامہ نگار مارٹن پیشنس نے بتایا ہے رات خاموش تھی اور تین ہفتے سے جاری اس جنگ میں آنے والے اس وقفے پر غزہ والوں نے سکھ کا سانس لیا ہوگا۔

لیکن اس قدر اموات اور اس قدر تباہی کے بعد غزہ میں عید کی خوشیاں منانے جیسی کوئی چیز نہیں۔ خیال رہے کہ فلسطین میں ماہِ رمضان کے اختتام پر پیر کو عیدالفطر منائی جا رہی ہے۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کے موجودہ صدر ملک راوانڈ کی طرف سے پیش کردہ اعلامیہ کی توثیق کی گئی جس میں ’پائیدار‘ جنگ بندی کے لیے مصر کی تجویز پر عمل درآمد کے لیے کہا گیا ہے جس کے تحت لڑائی میں وقفے سے غزہ کے مستقبل کے بارے میں نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو جائے گا اور جس میں غزہ کے سرحدی راستے کھولنے پر بھی بات چیت شامل ہو۔

اعلامیہ میں ’سویلین اور امدادی اداروں بشمول اقوامِ متحدہ کی سہولیات کو تحفظ فراہم کرنے پر بھی‘ زور دیا گیا۔

اس پہلے امریکی صدر براک اوباما نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

اتوار کو اسرائیل نے غزہ پر مزید حملے کیے جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ داغے اور فریقین نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔

غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق 20 روز سے جاری اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 1030 سے تجاوز کر گئی ہے جس میں مزید اضافہ جنگ بندی کے دوران ملبے میں دبی مزید لاشوں کے نکالنے کے عمل کے بعد ہوا۔ ہلاک ہونے والوں فلسطینیوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں۔

سنیچر کو 2 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے اب تک اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی کل تعداد 43 تک پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔ان افراد میں دو عام اسرائیلی شہری جبکہ ایک تھائی مزدور شامل ہے۔

اس سے پہلے حماس نے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جسے اسرائیل نے مسترد کر دیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس پہلے ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

اتوار کو امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر اپنی گفتگو میں ’انسانی بنیادوں پر غیر مشروط فوری جنگ بندی‘ پر زور دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس مسئلے کے مستقل حل طور پر حل ہونے سے ’غزہ کے رہائشی معمول کی زندگی بسر‘ کر سکیں گے اور یہ حل ایسا ہونا چاہیے جو شدت پسندوں کو غیر مسلحہ کرنے اور غزہ کو اسلحے سے پاک کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہو۔

سنیچر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر عارضی جنگ بندی سے غزہ کے رہائیشیوں کو عمارتوں کے ملبے دلے دبے لاشوں کو نکالنے اور خوراک لینے کا موقع ملا تھا۔

اسی بارے میں