’روس نے جوہری میزائل پر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حال ہی میں امریکی صدر اوباما نے یورپی یونین کے سربراہوں سے روس پر مزید پابندیاں لگانے پر زور دیا تھا

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ روس نے جوہری کروز میزائل کا تجربہ کرکے اسلحے پر کنٹرول کے ایک اہم معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ روس نے زمین سے مارکرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے اور اس طرح اس نے سرد جنگ کے دوران سنہ 1987 میں دستخط کیے جانے والے انٹرمیڈئیٹ رینج نیوکلیئر فورس ٹریٹی یعنی درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے جوہری اسلحے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی لیکن اسے ’بے حد سنگین‘ خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان ایک باہمی معاہدے کے تحت 500 سے 5500 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے والے درمیانی درجے کے میزائل کے تجربے پر پابندی لگائی گئي تھی۔

امریکہ نے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کیشدگی بڑھ رہی ہے۔یوکرین کے تنازعے میں روس کی مبینہ شمولیت پر امریکہ تنقید کرتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس معاہدہ پر سنہ 1987 میں سرد جنگ کے آخری دنوں میں صدرر رونالڈ ریگن اور صدر گورباچیوف نے دستخط کیے تھے

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میزائل کا تجربہ بہت سنگین معاملہ ہے اور اس پر ہم نے روس کے ساتھ حالیہ دنوں میں بات کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

انھوں مزید کہا: ’ہم نے روس سے کہا ہے کہ وہ معاہدے کی پابندی کرے اور پابندی کے زمرے میں آنے والے کسی بھی اسلحے کو اس طرح ختم کرے کہ اس کی تصدیق کی جا سکے۔‘

اہلکار نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اس بارے میں ایک خط لکھا ہے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے پال بلیک کا کہنا ہے کہ ہر چند کہ یہ معاملہ بہت دنوں سے چل رہا تھا تاہم پہلی بار امریکی حکومت نے علی الاعلان اق قسم کا الزام لگایا ہے۔

جنوری میں نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ روس نے زمین سے چلائے جانے والے کروز میزائل کا تجربہ سنہ 2008 سےہی شروع کر رکھا ہے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس معاہدہ پر سنہ 1987 میں سرد جنگ کے آخری دنوں میں صدرر رونالڈ ریگن اور صدر گورباچیوف نے دستخط کیے تھے۔

اسی بارے میں