’ایبولا وائرس برطانیہ کے لیے خطرہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بی بی سی سے کہا ہے کہ مغربی افریقہ میں 670 ہلاکتوں کا باعث بننے والے ایبولا وائرس برطانیہ کے لیے بھی خطرہ بن گیا ہے۔

فلپ ہیمنڈ نے کہا کہ وہ اس خطرے کا جائزہ لینے کے لیے جلد ہی برطانوی حکومت کی کابینہ کمیٹی ’کوبرا‘ کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے۔

برطانوی وزیر نے کہا کہ اب تک کسی برطانوی شہری کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ہے لیکن حکومت اس وبا کو بڑی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں انگلینڈ کے صحتِ عامہ کے ادارے نے برطانیہ بھر میں ڈاکٹروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایبولا وائرس کی علامات سے ہوشیار رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ حکومت اس وبا کو بڑی سنجیدگی سے لے رہی ہے

مغربی افریقہ کی فضائی کمپنیوں نے لائبیریا اور سیرا لیون سے اپنے پروازیں معطل کر دی ہیں تاکہ اس وائرس کے گنی سے دوسرے ملکوں میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔

فضائی کمپنیوں نے یہ اقدام اس واقعے کے بعد اٹھایا ہے جب ایبولا وائرس سے متاثرہ شخص گذشتہ ہفتے لائبیریا سے نائجیریا پہنچا تھا۔ سفر کے دوران اس شخص میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے کی علامت ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں۔

برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حکومت اس بارے میں بہت سنجیدہ ہے اور پوری طور پر توجہ اس پر مرکوز کیے ہوئے ہے کہ وہ کیا احتیاطی تدابیر ہو سکتی ہیں جن سے ان ملکوں میں موجود برطانوی شہریوں کو بچایا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ فی الحال ان علاقوں میں موجود کسی برطانوی شہری کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی برطانیہ کے اندر کوئی ایسا مریض سامنے آیا ہے۔

انھوں نے کہا بہرحال یہ ایک خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کوبرا کے طریقۂ کار کو بروئے کار لا رہی ہے۔

اسی بارے میں