روس کے خلاف امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں میں توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا : ’اگر روس اپنی حالیہ روش پر قائم رہتا ہے تو روس کے اخراجات میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہے گا‘

امریکی صدر براک اوباما نے روس پر تازہ اقتصادی پابندیوں کا یہ کہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’اس سے روس کی کمزور معیشت مزید کمزور ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کے مشترکہ اور منظم عمل سے روسی معیشت پر ’زیادہ چوٹ پڑے گی۔‘

اس سے قبل یورپی یونین نے بھی روس کے خلاف تازہ معاشی پابندیاں لگائیں جس میں ان کے تیل، دفاعی ساز و سامان اور حساس ٹکنالوجی کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تازہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں امریکی باشندوں اور امریکہ میں رہنے والے افراد تین روسی بینکوں سے تجارت نہیں کر سکیں گے۔

ان پابندیوں کا مقصد روس کی طرف سے یوکرین کے روس نواز باغیوں کی حمایت کو مشکل بنانا ہے۔

دوسری جانب روس امریکہ اور یورپی یونین کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے کہ وہ باغیوں کو بھاری اسلحے فراہم کرا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ روسی معیشت کے توانائی، اسلحے اور فائنانس کے اہم شعبوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ اپنی پابندیوں میں توسیع کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا: ’اگر روس اپنی حالیہ روش پر قائم رہتا ہے تو روس کے اخراجات میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہے گا۔‘

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس بار لگائی جانے والی پابندیوں میں روس کے وی ٹی ای بینک، بینک آف ماسکو اور روسی زرعی بینک روسیلکوزبینک شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل نے تازہ پابندیوں کو ’ناگزیر‘ قرار دیا ہے

واشنگٹن میں بی بی سی کی نمائندہ رجنی ویدیاناتھن کا کہنا ہے کہ تازہ امریکی پابندیاں بہت حیرت زدہ کرنے والی نہیں ہیں کیونکہ گذشتہ کئی ہفتوں سے امریکہ روس کے خلاف تازہ پابندیوں کی دھمکی دے رہا تھا۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے ایم ایچ 17 طیارےکے ساتھ ہونے والا افسوسناک سانحہ بعض یورپی ممالک کو ’نیند سے بیدار کر سکتا ہے‘ کہ روس نواز باغیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ کر لیناچاہیے۔

جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل نے جو روس کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کی وجہ سے روس کے خلاف مزید پابندیاں لگانے میں پس و پیش کا شکار تھیں، کہا ہے کہ تازہ پابندیاں ’ناگزیر تھیں۔‘

یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیزوف نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اس بات سے مایوس ہوا ہوں کہ یورپی یونین اس راستے پر چلا جار رہا جو کہیں نہیں جاتا۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ حالات پر انھیں تشویش ہے۔ تو ہمیں بھی تشویش ہے لیکن اس کے لیے پابندی لگانا تو ضروری نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس کے برعکس یوکرین پر مشرقی علاقے میں اس کے کردار کی وجہ سے پابندیاں لگائی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں