جنگ بندی کی خلاف ورزی، غزہ میں چار مزید ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ میں حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 55 اسرائیلی، جن میں 53 فوجی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں

جمعے کی صبح اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے چند ہی گھنٹوں بعد ہی ایک اسرائیلی حملے میں کم از کم چار فلسطینی مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی اسرائیلی علاقے کریم شالوم پر حملے کے جواب میں کی گئی۔

اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار نے غزہ سے بتایا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد شہر میں دکانیں کھلنے لگی ہیں اور سڑکوں پر بہت سے لوگ نظر آ رہے ہیں۔

72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی تھی، جبکہ قاہرہ میں جنگ بندی کے زیادہ دیرپا معاہدے کے لیے مذاکرات منعقد کیے جائیں گے۔

جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کیا۔

غزہ میں گذشتہ ساڑھے ترین ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک 1400 فلسطینی اور 55 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر فلسطینی عام شہری ہیں اور زیادہ تر اسرائیلیوں کا تعلق فوج سے ہے۔

اس کے علاوہ دسیوں ہزاروں افراد کو غزہ میں مختلف مقامات پر نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

حماس اور اسرائیل کے عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’اس دوران فوجیں اپنی جگہ پر رہیں گی۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی بنیادوں پر کی جانے والی جنگ بندی شروع ہونے تک تحمل سے کام لیں اور جنگ بندی کے دوران اپنے وعدوں پر مکمل طور پر قائم رہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ جنگ بندی بےگناہ شہریوں کو جنگ انتہائی ضروری وقفہ فراہم کرنے لیے بےحد لازمی ہے۔ جنگ بندی کے دوران غزہ کے شہریوں کو انسانی امداد فراہم کی جائے گی اور مردوں کو دفنانے، زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے اور خوراک حاصل کرنے جیسے ضروری کام کرنے کا موقع ملے گا۔‘

اسرائیل پر تنقید

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کیے گئے حالیہ آپریشن پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے شیلٹر پر کیا جانے والا حملہ ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول اور ناقابِل دفاع ہے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل پر کی جانے والی یہ اب تک کی سب سے شدید تنقید تھی۔

امریکہ نے کہا کہ غزہ میں عام شہریوں کی اموات کی تعداد ’بہت زیادہ‘ ہے۔

امریکہ نے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی زندگیاں بچانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی سربراہ نیوی پلے نے اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری فوجی کارروائی کے دوران جان بوجھ کر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو سکولوں، ہسپتالوں، گھروں اور اقوامِ متحدہ کی عمارات پر حملے کرنے پر ممکنہ طور پر جنگی جرائم کا مرتکب قراد دیا جانا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی سربراہ نے امریکہ کو اسرائیل پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے پر ناکامی، غزہ میں جاری لڑائی کو رکوانے اور اسرائیل کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ کے سربراہ کرس گِنیس کا کہنا ہے کہ ڈھائی لاکھ فلسطینی پناہ گاہوں کے متلاشی ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو غزہ کے حوالے سے دی جانے والی بریفینگ میں انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرنے والے سینئیر حکام نے غزہ کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ non
Image caption اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک دم نہیں لے گا جب تک حماس کی تمام سرنگیں تباہ نہیں کر دی جاتیں

غزہ میں اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی کے سربراہ نے غزہ کی صورتِ حال کو خوفناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد در بدر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتِ حال سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے مزید وسائل کی فوری ضرورت ہے

خیال رہے کہ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ ان کے وسائل ختم ہو رہے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک دم نہیں لے گا جب تک حماس کی تمام سرنگیں تباہ نہیں کر دی جاتیں۔

کابینہ کے اجلاس سے قبل انھوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ یا اس کے بغیر تمام سرنگیں تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران 16 ہزار سے زائد اضافی فوجیوں کو طلب کیا تھا۔

اسرائیل نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب اس نے غزہ پر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں چلنے والے اس سکول پر حملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا جس میں فلسطینی بےگھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

اسرائیل نے کہا تھا کہ اگر اس حملے میں اس کی فوج ملوث ہوئی تو وہ اس پر معذرت کرے گا۔

امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کے اس حملے کی مذمت کی تھی جس میں کم از کم 16 افراد مارے گئے تھے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ سکول کے قریب سے مارٹر گولے داغے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی حملے کو ’انتہائی ظالمانہ‘ تھا۔

اسی بارے میں