وہ ہفتہ جو دنیا کو جنگِ عظیم اول جانب لے گیا

پہلی جنگِ عظیم کے اعلانیہ آغاز سے بالکل پہلے والے ہفتے میں کیا ہوا تھا؟ ایک نظر ان شب و روز پر جنھوں نے دنیا کو پہلی جنگِ عظیم کی جانب دھکیل دیا۔

31 جولائی سنہ 1914

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption جنگ کی جانب جھکاؤ کی وجہ سے لندن میں سرمائے کی مارکیٹوں میں کھبلی مچ گئی اور سنہ 1733 کے بعد پہلی بار سٹاک ایکسچینج کو بند کرنا پڑا

31 جولائی سنہ 1914 تک یورپ پہلی جنگِ عظیم کے کنارے تک پہنچ چکا تھا۔ آرچ ڈیوک فرانز فردیند کے قتل کے بعد جنگ سے بچنے کی تمام سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں اور واقعات تیزی سے تصادم کی جانب بڑھنے لگے۔ 28 جولائی سنہ 1914 کو آسٹریا اور ہنگری نے سربیا کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ تین دنوں کے اندر اندر روس اور جرمنی نے اپنی افواج کو جنرل پیش قدمی کا حکم دیا۔

دوسری جانب جنگ کی جانب جھکاؤ کی وجہ سے لندن میں سرمائے کی مارکیٹوں میں کھبلی مچ گئی اور سنہ 1733 کے بعد پہلی بار سٹاک ایکسچینج کو بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہر آنے والا دن نیا بحران ساتھ لے کر آیا۔

یکم اگست سنہ 1914

یورپ اب جنگ سے صرف گھنٹوں کے فاصلے پر تھا۔ بیلجیم اور فرانس نے بھی اپنی افواج کو جنرل پیش قدمی کا حکم دے دیا۔

لندن میں جرمنی کے سفیر پرنس لیچنوسکی ایک ٹیلی گرام لے کر آئے جس میں ایک بہت بڑی غیر معمولی خبر تھی کہ اگر جرمنی فرانس پر حملہ نہ کرنے پر راضی ہو جائے تو برطانیہ جنگ سے غیر جانب دار رہے گا۔

اس پیغام کے بعد جرمنی کے حکمران قیصر ولہیلم دوم نے اپنی فوجی کمانڈروں کو مغرب کی جانب پیش قدمی کرنے سے روک دیا اور مشرق کی جانب پیش قدمی کی تیاری شروع کر دی۔ تاہم چند گھنٹوں کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ لندن میں جرمنی کے سفیر پرنس لیچنوسکی کو برطانوی موقف سمھجنے میں غلطی ہوئی جس کے بعد جرمنی نے اپنے پہلے منصوبے کے مطابق فرانس کی جانب مارچ شروع کر دیا۔

روس میں جرمنی کے سفیر نے اپنی حکومت کی جانب سے جنگ کے سرکاری اعلان اس وقت کے روسی وزیرسرگئی ساسونو کے حوالے کیا۔

دو اگست سنہ 1914

روس کے راس پوتن نے اس وقت کے روسی حکمران کو متنبہ کیا اگر روس جنگ میں شامل ہوا تو روس میں ’آنسوؤں کا سمندر‘ آ جائے گا۔

ادھر جرمنی نے اپنی افواج کو لیگزم برگ کی جانب بھیجنے کے بعد بیلجیم کی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے اس سے اپنی افواج کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption جنگ کے مغربی محاذ پر بیلجیم کے شہر لیج کے ارد گرد 40,000 افراد کی جانب سے ایک چوکی کا دفاع کیا جا رہا تھا۔ جرمن افواج کو ایسا مضبوط دفاع دیکھ کر حیرانی ہوئی

دوسری جانب برطانوی حکومت پہلی جنگِ عظیم میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکی تاہم فرسٹ لارڈ آف ایڈمیرٹلی ونسٹن چرچل نے بیلجیم کی غیر جانب داری کی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی۔

اس وقت کے برطانوی وزیرِاعظم ہینری ایسکویتھ نے لندن کے رہائشیوں کے درمیان جنگ کے لیے مقبول اور جوش و خروش جذبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ اب وہ اپنی گھنٹیاں بجا رہے ہیں اور چند ہفتوں کے بعد وہ اپنے ہاتھ بجا رہے ہوں گے۔‘

دو اگست سنہ 1914 کی رات گئے بیلجیم نے جرمنی کا الٹی میٹم مسترد کردیا جس کے جواب میں جرمن سفارت کار نے کہا ’بے چارے غریب احمق۔‘

تین اگست سنہ 1914

تین اگست سنہ 1914 کو لندن میں عام تعطیل تھی تاہم اس وقت کی برطانوی کابینہ کا بحران پر مشاروت کے لیے دوبارہ اجلاس ہوا۔

دوپہر کو اس وقت کے برطانوی وزیرِ خارجہ سر ایڈورڈ گرے نے ہاؤس آف کامنز میں کھڑے ہو کر برطانوی پوزیشن بیان کی۔

زرد اور اترے ہوئے چہرے سے انھوں نے متنبہ کیا کہ برطانیہ کا جنگ سے جانب دار رہنا اس کے لیے شدید نقصان دہ ہو گا اور ہمارے ایک طرف کھڑے رہنے سے ’ہم ہمارے احترام، اچھے نام اور اس کی ساکھ کو قربان کر دیں گے۔‘

ادھر پیرس میں جرمن سفیر نے اپنی حکومت کی جانب سے جنگ کے سرکاری اعلان کو فرانس کے حوالے کیا۔

اس وقت کے برطانوی وزیرِ خارجہ نے اپنے دفتر کی کھڑکی سے گھورتے ہوئے کہا ’ لیمپ تمام یورپ سے باہر جا رہے ہیں، ہم ان کو ہماری زندگی میں دوبارہ روشن نہیں دیکھیں گے۔‘

چار اگست سنہ 1914

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption دو اگست سنہ 1914 کی رات گئے بیلجیم نے جرمنی کا الٹی میٹم مسترد کردیا جس کے جواب میں جرمن سفارت کار نے کہا ’بے چارے غریب احمق۔‘

چار اگست سنہ 1914 کی صبح فرانسیسی افراد جب سو کر اٹھے تو انھوں نے خود کو جنگ میں شامل پایا۔

برطانیہ نے جرمنی کو الٹی میٹم بھیجا کہ وہ بیلجیم کی جانب داری کا احترام کرے اور اس کے لیے انھوں نے گرینج مین ٹائم کے مطابق رات 11 بجے کا وقت مقرر کیا۔

اس وقت تک بہت زیادہ دیر ہو چکی تھی اور برطانیہ کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ جرمن افواج پہلے ہی بیلجیم پر چڑھائی کر چکی تھیں۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہو چکا تھا، سب کی نگاہیں گھڑی کی جانب تھیں۔

وقت گزرتا رہا، حتمی مہلت گزر گئی اور آخر کار برطانیہ پہلی جنگِ عظیم میں شامل ہو ہی گیا۔

پانچ اگست سنہ 1914

اعلانِ جنگ کے صرف 12 گھنٹوں کے بعد برطانوی اخبارات نے رضا کاروں کو بلا لیا۔

لندن میں قائم جرمن سفارت خانے سے جرمنی کے عقاب کو ہٹا دیا گیا اور برطانوی سفیر برلن سے واپس چلے گئے۔

جرمنی کے اخبارات نے ملک میں جنگ کے بخار کی کیفیت پیدا کر دی۔ ان اخبارات کا کہنا تھا کہ بیلجیم کی حکومت جرمنی کے سپاہیوں پر مظالم ڈھا رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فرانسیسی افواج نے 6 اگست کو انیچو کے سرحدی قصبے ٹوگو لینڈ پر قبضہ کر لیا جو جرمنی کے علاقے کا پہلا قبضہ تھا

اطلاعات کے مطابق روس کے جاسوس ہر جگہ پھیل چکے تھے۔

جنگ کے مغربی محاذ پر بیلجیم کے شہر لیج کے ارد گرد 40,000 افراد کی جانب سے ایک چوکی کا دفاع کیا جا رہا تھا۔ جرمن افواج کو ایسا مضبوط دفاع دیکھ کر حیرانی ہوئی۔

ادھر مونٹی نیگرو نے بھی آسٹریا اور ہنگری کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

چھ اگست سنہ 1914

آسٹریا اور ہنگری نے روس جبکہ سربیا نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

جرمنی کے ہوائی جہاز نے بیلجیم کے شہر لیج پر حملہ کر دیا جو کسی بھی یورپی شہر پر پہلا حملہ تھا۔ اس حملے میں نو عام شہری ہلاک ہوئے۔

اس حملے کے بعد 1,50,000 جرمن فوج بیلجیم کے قلعے کے احاطہ کر چکی تھیں تاہم اس حملے میں 8,000 جرمن سپاہی ہلاک ہو چکے تھے۔

اس وقت کے برطانوی سیکریٹری برائے جنگ لارڈ کچنر نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ انھیں امید ہے کہ یہ جنگ کم سے کم تین سال تک جاری رہے گی۔

ادھر فرانسیسی افواج نے انیچو کے سرحدی قصبے ٹوگو لینڈ پر قبضہ کر لیا جو جرمنی کے علاقے کا پہلا قبضہ تھا۔

سات اگست سنہ 1914

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption سر جان فرینچ کی قیادت میں برطانوی افواج نے سات اگست کو فرانس میں اترنا شروع کیا

رات کی آرٹلری بمباری کے بعد جرمن افواج نے بیلجیم کے شہر لیج پر مزید کسی مزاحمت کے قبضہ کر لیا۔

ادھر لندن کے ریکروٹمنٹ آفس میں رضا کاروں کا تانتا بندھا ہوا تھا جسے قابو کرنے کے لیے اضافی پولیس کی ضرورت تھی۔

سر جان فرینچ کی قیادت میں برطانوی افواج نے فرانس میں اترنا شروع کیا۔

آٹھ اگست سنہ 1914

مونٹی نیگرو نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

ادھر فرانس نے 43 سال قبل فرانس اور روس کی جنگ میں کھویا ہوا علاقے واپس حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ انھوں نے ملہاؤس کے قصبے پر فبضہ کر لیا تاہم وہ اس پر اپنا کنٹرول صرف ایک روز ہی رکھ پائے جب تک جرمنی فوج نے جوابی کارروائی نہیں کی۔

دوسرے جانب برطانوی بندرگاہ ساؤتھ ہیمٹن میں بحری جہاز وائٹ سٹار پہنچتا ہے جس کے تعاقب میں جرمنی کی بحریہ کا اٹلانٹک فلیٹ تھا۔ اس جہاز پر پندرہ ملین ڈالر مالیت کا سونا اور چاندی لدا ہوا تھا۔

اسی بارے میں