’لاپتہ اسرائیلی فوجی ہماری حراست میں نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی آپریشن کے دوبارہ آغاز کے بعد سے غزہ پر بمباری میں 90 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں

حماس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس لاپتہ اسرائیلی فوجی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہو۔

یاد رہے کہ جمعے کے روز شروع ہونے والی اسرائیل اور حماس کے درمیان 72 گھنٹوں کی جنگ بندی چند گھنٹے ہی برقرار رہ سکی اور اسرائیلی فوج نے آپریشن دوبارہ شروع کرتے ہوئے غزہ کے رہائشیوں کو تنبیہہ کی کہ وہ باہر نہ نکلیں۔

ادھر غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ آٹھ جولائی سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1600 ہو گئی ہے۔ سنیچر کو صبح بھی غزہ پر بمباری کی گئی ہے۔

اسرائیلی آپریشن کے دوبارہ آغاز کے بعد سے غزہ پر بمباری میں 100 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک اسرائیلی فوجی لاپتہ ہو گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فوجی حماس کی بنائی گئی سرنگوں کو تباہ کرنے کے کام پر مامور تھا۔ اسرائیلی فوج اس لاپتہ فوجی کی تلاش کر رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فوجی حماس کے قبضے میں ہے۔

دوسری جانب سے اسرائیل کا کہنا ہے کہ اپنے فوجی کی حراست کے ردِ عمل میں وہ سخت ترین کارروائی کریں گے۔ لاپتہ فوجی کی تلاش میں اسرائیلی فوجی جنوبی غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔

اس سلسلے میں جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی فوجی کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اگر حماس اس کشیدگی کو ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو ان کی حراست میں موجود اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر حماس اپنے ذیلی گروہوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی تو اسرائیل کے لیے اس بات کا یقین کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر حماس اپنے ذیلی گروہوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی تو اسرائیل کے لیے اس بات کا یقین کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے

اس سے قبل جمعے کی صبح اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے چند ہی گھنٹوں بعد ہی ایک اسرائیلی حملے میں کم از کم چار فلسطینی مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی اسرائیلی علاقے کریم شالوم پر حملے کے جواب میں کی گئی۔

اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار نے غزہ سے بتایا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد شہر میں دکانیں کھلنے لگی ہیں اور سڑکوں پر بہت سے لوگ نظر آ رہے ہیں۔

72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی تھی، جبکہ قاہرہ میں جنگ بندی کے زیادہ دیرپا معاہدے کے لیے مذاکرات منعقد کیے جائیں گے۔

جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کیا۔

غزہ میں گذشتہ ساڑھے ترین ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک تقریباً 1600 فلسطینی اور 63 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر فلسطینی عام شہری ہیں اور زیادہ تر اسرائیلیوں کا تعلق فوج سے ہے۔

اس کے علاوہ دسیوں ہزاروں افراد کو غزہ میں مختلف مقامات پر نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

اسی بارے میں