اسرائیل ’امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ رات اسرائیلی بمباری میں 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں

حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر مصر میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے اپنا وفد نہیں بھیجے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے زیرِ استعمال سرنگیں تباہ کرنے کے بعد یک طرفہ طور پر غزہ سے نکل جانے پر غور کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اسرائیل پہلے ہی اپنا مقصد پورا کرنے کے قریب ہے۔

مصری صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ امن معاہدے سے خونریزی رک جائے گی۔

اس دوران غزہ میں لڑائی جاری ہے اور اسرائیل اپنے ایک فوجی ہادر گولڈن کو تلاش کر رہا ہے جو جمعے کو لاپتہ ہو گئے تھے۔

جمعے کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک 200 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ سب سے بھاری بمباری رفح کے علاقے میں ہوئی۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہاں حماس نے ہادر گولڈن کو پکڑ لیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھنی بیل کہتے ہیں کہ اسرائیل نے اس تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کے طریقے کو رد نہیں کیا، تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سرنگوں کی تباہی اور اپنے فوجی کو تلاش کرنے کے بعد وہ غزہ سے یک طرفہ انخلا پر غور کر رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسرائیلی وفد نہیں جائے گا اور اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک حماس اس کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔

اسرائیل نے غزہ پر تازی بمباری کی ہے جس میں مزید فلسطین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں لاپتہ اسرائیلی فوجی کی تلاش جاری ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ رات اسرائیلی بمباری میں 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملے رفح کے مقام پر ہوئے جہاں سے اسرائیل فوجی ہدر گولڈ لاپتہ ہوئے تھے۔

دوسری جانب سنیچر کی صبح اسرائیلی علاقے میں کئی راکٹ داغے جانے کی خبریں ہیں۔

واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل کی اس حالیہ کشیدگی میں 1600 سے زائد فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔

جمعے کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی 72 گھنٹوں کی جنگ بندی چند گھنٹے ہی برقرار رہ سکی اور اسرائیلی فوج نے آپریشن دوبارہ شروع کرتے ہوئے غزہ کے رہائشیوں کو تنبیہہ کی کہ وہ باہر نہ نکلیں۔

حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگایا لیکن اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کی جانب سے راکٹ داغے جانے کی وجہ سے انھیں جواب دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حماس کے مسلح شعبے القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اس نے تل ابیب پر تین راکٹ داغے ہیں

جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے غزہ بحران کو ’دل دوز کہا اور یہ بھی کہا کہ وہ صلح کرانے کے لیے کام کریں گے۔‘

فلسطینی حکا کا کہنا ہے کہ رفح کے پاس اسرائیل نے فضائی بمباری میں نصف شب سے اضافہ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غزہ میں مجموعی طور پر رات، 40 گھروں، تین مساجد اور ایک یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گيا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ نسبتا پرسکون رات کے بعد سنیچر کی صبح تل ابیب سمیت اسرائیلی خطے میں راکٹ داغے گئے ہیں۔

حماس کے مسلح شعبے القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اس نے تل ابیب پر تین راکٹ داغے ہیں۔

ان میں سے دو تو آئرن ڈوم نامی میزائل شکن نظام کے ذریعے تباہ کر دیے گئے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی منا نے کہا ہے کہ غرہ اور مصر کے درمیان رفح کی سرحد کو سنیچر کی صبح انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر پھر سے کھول دیا گیا ہے تاکہ مرنے والوں اور زخمیوں کو امداد پہنچائی جاسکے۔

دریں اثنا القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ انھیں 23 سالہ سیکنڈ لیفٹینینٹ ہدر گولڈن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ گولڈن کو اس حملے میں قید کر لیا گیا ہوگا جس میں دو اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اوباما نے لفٹینینٹ گولڈن کی رہائی کی اپیل کی ہے

سنیچر کی صبح اپنے ایک بیان میں القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ اس علاقے میں لڑنے والے اپنے گروپ سے ان کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے جہاں اسرائیلی فوجی لاپتہ ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے: ’ہمارے خیال سے سب کے سب (اسرائیل) بمباری میں مارے گئے ہیں۔ اگر وہ فوجی کو پکڑنے میں کامیاب بھی ہو گئے ہوں تو ہمارے خیال میں وہ سب کے سب اس میں مارے گئے ہیں۔‘

دریں اثنا امریکی صدر اوباما نے لفٹینینٹ گولڈن کی رہائی کی اپیل کی ہے اور اسرائیلی فوجی کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اگر حماس اس کشیدگی کو ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو ان کی حراست میں موجود اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر حماس اپنے ذیلی گروہوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی تو اسرائیل کے لیے اس بات کا یقین کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے۔

اسی بارے میں