اسرائیل کا ’غزہ میں اقوامِ متحدہ کے سکول پر حملہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے پناہ گاہوں میں مقیم ہیں

غزہ میں طبی ماہرین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نے اس سکول میں پناہ لے رکھی تھی۔

خیال رہے کہ رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ان پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

قوامِ متحدہ کے سیکیٹری جنرل بان کی مون نے حملے کی پرزور مزحمت کی ہے اور کہا ہے کہ عالمی قانون کی دجھیاں اڑانے والوں کو اس حرکت کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں کی جانے والی نئی کارروائی پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ادھر غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اتوار کو اسرائیلی افواج کےحملے میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر راکت برسائے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے تازہ کارروائی اس کے ایک فوجی ہادارگولڈن کی ہلاکت کے تصدیق کے بعد کی گئی۔

اسرائیلی کی جانب سے غزہ میں آٹھ جولائی سے شروع کی جانے والی کارروائی میں اب تک 66 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ لڑائی میں 1,740 فلسطینی ہلاک اور 9,080 زخمی ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی سکیورٹی ضروریات کے مطابق غزہ میں آپریشن جاری رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کو اسرائیل پر حملے کرنے کی ’ناقابل برداشت‘ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری تنازعہ کی وجہ سے وہاں صحت کے حوالے سے بحران بڑھتا جا رہا ہے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے تباہی کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے اسرائیل کی طرف سے غزہ کے علاقے جبلیہ میں کی جانے والی شیلنگ سے اقوامِ متحدہ کی ایک پناہ گاہ میں 16 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔ دنیا بھر میں اس اسرائیل اقدام کی مذمت کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجی حماس کی سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔

اتوار کو اسرائیلی فورسز کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ غزہ کے کچھ علاقوں سے واپس آرہے ہیں اور وہ آپریشن پر دوبارہ نظر ثانی کریں گے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کرنل پیٹر کے مطابق غزہ میں آپریشن اب دوسرا رخ اختیار کر رہا ہے اور اب فوج کی حکمتِ عملی اور اہداف تبدیل ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’حماس سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے لوگ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ اسرائیل اپنے لوگوں کا تحفظ کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔‘

دوسری طرف حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو بوکلاہٹ کا شکار قرار دیا اور کہا کہ حماس تب تک مزاحمت جاری رکھے گی جب تک وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ جاتی۔ا

فلسطین میں اقوامِ متحدہ کے ڈائریکٹر آپریشن نے کہا کہ اسرائیلی حکام کو اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہوں کی فہرست دی گئی ہے اور ان کی نشاندہی کئی بار کی جا چکی ہے لیکن اس کے باجود بھی حملے جاری رہنا ان کی سمجھ سے باہر ہے۔

اسرائیلی مالی امور کے وزیر یائر لاپد نے کہا کہ ’ ہم وہی کریں گے جو ہمارے لیے اچھا ہے‘۔

اسی بارے میں