عارضی جنگ بندی ختم، غزہ پر حملوں کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں

اسرائیل نے غزہ کے کچھ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے سات گھنٹے لیے عارضی جنگ بندی کی مدت پوری ہونے کے ساتھ ہی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں طویل المدت سکیورٹی مقاصد حاصل کیے جانے تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

سات گھنٹے کی جنگ بندی کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی اسرائیل نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا جس میں ایک آٹھ سالہ لڑکی ہلاک ہو گئی جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس دوران غزہ سے مزید راکٹ فائر کیے گئے۔

اس سے پہلے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایک سینیئر اسرائیلی فوجی عہدے دار نے کہا تھا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق رفح کے قصبے پر نہیں ہو گا اور اگر حماس کی جانب سے حملہ ہوا تو اسرائیل اس کا جواب دے گا۔

اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ غزہ سے بیشتر اسرائیلی فوج واپس چلے گئے ہیں تاہم اس کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی فضائیہ کی جانب اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملے کو ’اخلاقی زیادتی اور مجرمانہ فعل‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پراسرائیلی فضائیہ کے حملے کے بعد بان کی مون نے کہا کہ یہ حملہ ’بین الاقوامی قوانین کی فاش خلاف ورزی ہے‘ اور ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہیے۔

دوسری جانب امریکی دفترِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام سکول کو نشانہ بنائے جانے کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں طبی ماہرین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہو ئے۔

ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نے اس سکول میں پناہ لے رکھی تھی۔

خیال رہے کہ رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ان پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں کی جانے والی نئی کارروائی پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ادھر غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اتوار کو اسرائیلی افواج کےحملے میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ برسائے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے تازہ کارروائی اس کے ایک فوجی ہادارگولڈن کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کی گئی۔

اسرائیلی کی جانب سے غزہ میں آٹھ جولائی سے شروع کی جانے والی کارروائی میں اب تک 66 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ لڑائی میں 1,740 فلسطینی ہلاک اور 9,080 زخمی ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے علاقے جبالیا میں کی جانے والی شیلنگ سے اقوامِ متحدہ کی ایک پناہ گاہ میں 16 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔ دنیا بھر میں اس اسرائیل اقدام کی مذمت کی گئی تھی۔

اسی بارے میں