سکیورٹی ضروریات کے مطابق آپریشن جاری رہے گا: اسرائیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلسطینی حکام کا کہنا کہنا ہے کہ غزہ پر حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی کُل تعداد 1655 ہو گئی ہے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی سکیورٹی ضروریات کے مطابق غزہ میں آپریشن جاری رہے گا۔

انھوں نے یہ بات ہفتے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی ہدر گولڈن ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل لیفٹیننٹ گولڈن کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کو حماس نے یرغمال بنا لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گولڈن غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کو اسرائیل پر حملے کرنے کی ’ناقابل برداشت‘ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیل وزیر اعظم نے کہا تھا کہ جب تک حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ نہیں ہوجاتا آپریشن جاری رہے گا۔

تاہم اس پریس کانفرنس سے قبل اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے زیرِ استعمال سرنگیں تباہ کرنے کے بعد یک طرفہ طور پر غزہ سے نکل جانے پر غور کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اسرائیل پہلے ہی اپنا مقصد پورا کرنے کے قریب ہے۔

پریس کانفرنس میں بنیامن نیتن یاہو نے کہا ’سرنگوں کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز ہمارے سکیورٹی ضروریات کے مطابق کارروائی کرتی رہیں گیں جب تکہ اسرائیلی شہریوں کی مکمل حفاظت یقینی نہ ہو جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے شہریوں پر غزہ سے مسلسل حملے برداشت نہیں کرے گا۔

’حماس کو ایک بار پھر یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ اسرائیلی عوام میں حماس کے خلاف لڑنے کی ہمت اور لگن نہیں ہے۔ حماس کو ایک بار پھر یہ بات سمجھ آ جائے گی کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے اسرائیل کچھ بھی کر سکتا ہے۔‘

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے بعد فلسطینی گروپ حماس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ حماس اپنے مقاصد پورے ہونے تک مزاحمت جاری رکھا گا۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ اسرائیل ممکنہ طور پر مصر میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے اپنا وفد نہیں بھیجے گا۔

مصری صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ امن معاہدے سے خونریزی رک جائے گی۔

اس دوران غزہ میں لڑائی جاری ہے اور اسرائیل اپنے ایک فوجی ہادر گولڈن کو تلاش کر رہا ہے جو جمعے کو لاپتہ ہو گئے تھے۔

جمعے کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک 200 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ سب سے بھاری بمباری رفح کے علاقے میں ہوئی۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہاں حماس نے ہادر گولڈن کو پکڑ لیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھنی بیل کہتے ہیں کہ اسرائیل نے اس تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کے طریقے کو رد نہیں کیا، تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سرنگوں کی تباہی اور اپنے فوجی کو تلاش کرنے کے بعد وہ غزہ سے یک طرفہ انخلا پر غور کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حماس کے مسلح شعبے القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اس نے تل ابیب پر تین راکٹ داغے ہیں

اسرائیلی میڈیا نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسرائیلی وفد نہیں جائے گا اور اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک حماس اس کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔

اسرائیل نے غزہ پر تازی بمباری کی ہے جس میں مزید فلسطین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں لاپتہ اسرائیلی فوجی کی تلاش جاری ہے۔

واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل کی اس حالیہ کشیدگی میں 1600 سے زائد فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔

جمعے کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی 72 گھنٹوں کی جنگ بندی چند گھنٹے ہی برقرار رہ سکی اور اسرائیلی فوج نے آپریشن دوبارہ شروع کر دیا۔

اسی بارے میں