رائل نیوی شپ کے ذریعے لیبیا سے برطانوی باشندوں کا انخلا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں بڑھتے ہوئے بحران کے نتیجے میں برطانیہ نے اپنے شہریوں کی مدد کے لیے بحری جہاز بھیجا ہے۔

لیبیا میں بگھڑتے ہوئے دیکھتے ہوئے برطانیہ نے لیبیا میں مقیم برطانوی باشندوں کی انخلا کے لیے اپنی رائل نیوی شپ یا سمندری جہاز بھیجا ہے۔

یہ بحری جہاز، ایچ ایم ایس انٹرپرائز لوگوں کو لینے کے لیے سمندر کے کنارے کھڑا ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ اپنے شہریوں کو فوری طور پر لیبیا سے نکلنے پر زور دے رہی ہے اور عارضی طور پر لیبیا کے دارلحکومت طرابلس میں اپنا سفارت خانہ بند کر رہی ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حکومت ’برطانوی شہریوں کی لیبیا سے روانگی کےحوالے سے مدد فراہم کر رہی ہے۔‘

108 کے قریب افراد ایچ ایم ایس کے لیے اندراج کر چکے ہیں جن میں اکثریت برطانوی لوگوں کی ہے۔ تاہم دو آئرش شہری اور ایک جرمن جن کا سفارت سے تعلق نہیں ہے، بھی اندراج کرنے والے میں شامل ہیں۔

متوقع مسافر جب بحری جہاز میں سوار ہو جائیں گے تو یہ مالٹا کے لیے روانہ ہو جائے گی۔ اس کو ایک ریسکیو مشن کے طور پر نہیں لیا جا رہا کیونکہ لیبیا کو چھوڑنے کے لیے کمرشل راستے بھی ممکن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبیا میں برطانوی سفیر کا کہنا ہے کہ لیبیا سے نکلنا کا فیصلہ ’ہچکچاتے ہوئے‘ لیا گیا تھا۔

لیبیا کے سابق صدر معمر قدافی کو سنہ 2011 میں حکومت سے ہٹانے کے بعد سے ملک بھر میں عدم استحکام اور حریف گروپوں کے درمیاں اقتدار کی کشمکش جاری ہے۔

پارلیمنٹ اور وزارت دفاع کی جانب سے قائم کی گئی حریف ملیشیاوں کے درمیان حالیہ لڑائی اب طرابلس کے شمالی علاقوں تک پھیل گئی ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں میں 200 سے زائد افراد اب تک طرابلس اور بن غازی شہروں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

طرابلس میں برطانوی سفارت خانہ اپنا کام معطل کرنے کو ہے جس کے بعد سفارت خانے کا باقی عملہ بھی وہاں سے نکل کر عارضی طور پر ہمسایہ ملک تیونس میں منتقل ہو جائے گا۔ 100 سے 300 تک برطانوی باشندے اب بھی لیبیا میں ہیں۔

لیبیا کے برطانوی سفیر مائیکل ارن نے صورت حال کو ’انتہائی دکھی‘ بیان کیا ہے۔

ایک بیان میں برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’برطانوی حکومت سفارت خانے کی کارروائیوں کے معطل ہونے سے پہلے کئی برطانوی شہریوں کی ملک سے نکلنے میں مدد کرے گی۔‘

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تجارتی پروازوں کی ایک محدود تعداد اب بھی لیبیا سے چل رہی ہیں لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ پرواز کے نظام الاوقات نوٹس کے بغیر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ زمینی راستے بھی کھلے ہیں لیکن دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ’سکیورٹی صورت حال بہت جلدی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔‘