پہلی جنگِ عظیم کی صد سالہ تقریب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر اولاند اور صدر گوک نے ان سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنھوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔

فرانس اور جرمنی کے صدور نے آج پہلی جنگِ عظیم کی صد سالہ تقریب میں حصہ لیا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور ان کے ہم منصب جرمنی کے جواشم گوک پہلی جنگ عظیم میں مارے جانے والے فوجیوں کو آلساسے میں خراج تحسین پیش کیا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ فرانس اور جرمنی نے اپنے تنازعات کو بھلا کر دوستی کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا ’یہ مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا اور پر امن طور پر زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے‘۔

اولاند نے دنیا بھر میں جاری تنازعات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اور بالخصوص فلسطین میں جاری تنازعے کے بارے میں کہا کہ غزہ میں جاری حملوں کو روکنے کے لیے اور وہاں موجود شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے پوری دنیا کو کوشش کرنی چائیے۔

دونوں ممالک کے سربراہان نویئلی آرمنڈ قبرستان کے گرد کھڑے تھے۔

اس جگہ کو جسے جرمنی میں ’ہارٹمانسویلرکوف‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، تقریباً 30000 افراد مارے گئے تھے۔ اس قبرستان میں 12,000 ایسے فوجیوں کی قبریں ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔

دونوں صدور نے یہاں ایک یادگار کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

جرمنی کے جواشم گوک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ 100 سال قبل ہونے والی جنگ کی ’مضحکہ خیزی‘ اور ’وحشت‘ کی یاد دلاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آرمنڈ پہار کے گرد تقریبا 30000 افراد مارے گئے تھے اس قبرستان میں 12,000 ایسے فوجیوں کی قبریں ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ہلاک ہونے والوں کی موت کا بہت افسوس ہے اور انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا‘۔

یاد رہے کہ 100 سال قبل آج ہی کے دن یعنی تین اگست سنہ 1914 کو جرمنی نے فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔

صدر اولاند اور صدر گوک نے ان سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنھوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔

بلجیئم میں پیر کو برطانیہ کے جرمنی کے خلاف جنگ کے اعلان کے حوالے سے ایک علیحدہ تقریب منعقد کی جائے گی۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

دونوں صدور اس جگہ جنگ عظیم کی یادگار اور نمائش سینٹر کا سنگ بنیاد بھی رکھا جنھیں عوام کے لیے سنہ 2017 میں کھولے جائیں گے۔

دونوں رہنما سوموار کو پھر بلجیئم کے لیگے شہر میں ملاقات کریں گے جہاں دوسرے یورپی ممالک کے سربراہان بھی شرکت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بلجیئم کے خلاف جنگ کے اعلان کے بعد سے یورپ جنگِ عظیم اول کے حوالے سے منقسم ہو گیا تھا جس کے بعد انگلینڈ نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔

اسی بارے میں