لبنان: شامی باغیوں سے جھڑپیں، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption متاثرین خطرے کی صورتحال میں ہیں اور انہیں بنیادی اشیاء پانی، خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے۔،اقوام متحدہ

لبنان کی سکیورٹی فورسز کی شامی باغیوں سے جھڑپیں تیسرے دن بھی جاری ہیں جبکہ لبنان کے سرحدی شہر آرسل سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

یہ جھڑپیں سنیچر کی شام لبنانی فوجیوں کے اسلام پسند شامی گروہ النصرہ فرنٹ کے ایک مبینہ رکن کو حراست میں لینے کے بعد شروع ہوئی ہیں۔ باغیوں نے اپنے رکن کی رہائی کے لیے سنیچر کو شام سے ملحق سرحدی شہر ارسل پر حملہ کر دیا۔

گذشتہ تین روز سے جاری سرحدی کشیدگی میں اب تک 13 لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں۔

لبنان کے سرحدی علاقے آرسل کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ جھڑپوں میں وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سامان باندھ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اس علاقے میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے۔

حالیہ بمباری سے وہاں دھویں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں

علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں میں صرف لبنانی نہیں بلکہ شامی پناہ گزین بھی شامل ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے النصرہ کے ترجمان نے اپنے رہنما عماد جمعہ جنھیں اسی علاقے کے قریب چیک پوسٹ پر حراست میں لیا گیا تھا کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

یہ گروہ شام میں القاعدہ کے ان حامی گروہوں میں سے ایک ہے جو شامی حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شام کے ہمسایہ ملک لبنان کی تعداد 50 لاکھ ہے اور وہاں کل 10 لاکھ شامی باشندے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

عراق میں نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty AFP
Image caption شدت پسندوں نے عراق کے سب سے بڑے ڈیم ’موصل ڈیم‘ کا کنٹرل بھی حاصل کر لیا ہے،عراقی حکومت

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی عراق کے مزید دیہاتوں پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد وہاں کے دو لاکھ مکینوں نے اپناگھر چھوڑ دیا ہے۔

عراق کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کے مطابق عراق کے علاقے سینجار میں انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے اور اقوامِ متحدہ وہاں کے مکینوں کے تحفظ کے لیے فکر مند ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس صورت حال میں متاثرین کو مدد کی ضرورت ہے نقل مکانی کرنے والے بہت سے افراد قریبی پہاڑوں میں موجود ہیں۔

’ مکین خطرے کی صورت حال میں ہیں اور انھیں پانی، خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے۔‘

یہ دیہات کرد یزیدیوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے جو اسلامی سلطنت کی نظر میں بھٹکے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامی عراق و شام (داعش) نے شام کے قریب سینجار پر قبضے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

داعش نے جون میں شمالی عراق میں حکومت کے ماتحت علاقوں میں بڑی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

داعش کی جانب سے اس سے قبل اسی دیہات میں کردش یزیدیوں کے دو مزاروں کو بھی تباہ کیا گیا تھا۔

عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شدت پسندوں نے عراق کے سب سے بڑے ڈیم ’موصل ڈیم‘ کا کنٹرل بھی حاصل کر لیا ہے۔

اسی بارے میں