اسرائیل، حماس 72 گھنٹوں کی جنگ بندی پر رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں

مصر کے ایک سینیئر اہلکار نےکہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔ اسرائیل اور حماس نے بھی 72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی کی مصری تجویز کو قبول کرنے کی تصدیق کی ہے۔

اس جنگ بندی پر عمل مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح آٹھ بجے سے شروع ہوگا۔

پیر کے روز اسرائیل نے غزہ کے کچھ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے سات گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن مدت پوری ہونے کے ساتھ ہی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔

اسرائیلی کی جانب سے غزہ میں آٹھ جولائی سے شروع کی جانے والی کارروائی میں 1,800 فلسطینی ہلاک اور67 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

پیر کے روز مصر کے دارالحکومت میں ہونے والے ہونے مذاکرات میں اسرائیل شریک نہیں تھا۔

اسرائیل کے سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ وہ 72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی کی مصری تجویز کو منظور کر لےگا۔

حماس کے ترجمان سمیع ابو زوہری نے خبر رساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ حماس نے مصر کو بتا دیا ہے کہ وہ 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز کو ماننے پر تیار ہے۔

مصر کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں فریق 72 گھنٹے کے جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی فضائیہ کی جانب اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملے کو ’اخلاقی زیادتی اور مجرمانہ فعل‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پراسرائیلی فضائیہ کے حملے کے بعد بان کی مون نے کہا کہ یہ حملہ ’بین الاقوامی قوانین کی فاش خلاف ورزی ہے‘ اور ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہیے۔

دوسری جانب امریکی دفترِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام سکول کو نشانہ بنائے جانے کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں طبی ماہرین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہو ئے۔

ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نے اس سکول میں پناہ لے رکھی تھی۔

خیال رہے کہ رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ان پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں کی جانے والی نئی کارروائی پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ادھر غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اتوار کو اسرائیلی افواج کےحملے میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ برسائے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے تازہ کارروائی اس کے ایک فوجی ہادارگولڈن کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کی گئی۔

اسی بارے میں