’غزہ پر حکومت کی حمایت نہیں کر سکتی،‘ برطانوی وزیر مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

برطانوی دفترِ خارجہ کی وزیر سعیدہ وارثی نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ وہ ’حکومت کی غزہ پر پالیسیوں کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں‘ جسے انھوں نے ’اخلاقی لحاظ سے ناقابلِ دفاع‘ قرار دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں نے آج صبح بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ وزیراعظم کو لکھا ہے اور انھیں اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ میں حکومت کی غزہ پر پالسیی کی مزید حمایت نہیں کر سکتی۔‘

انہوں نے اس ٹویٹ کے کچھ گھنٹوں کے بعد اپنے استعفے کی تصویر ٹوئٹر پر جاری کی جسے پڑھا جا سکتا ہے۔

ان کی اس حوالے سے پہلی ٹویٹ برطانوی وقت کے مطابق صبح نو بج کر دس منٹ پر کی گئی اور اب تک اسے ہزاروں افراد ری ٹویٹ اور فیورٹ کر چکے ہیں۔

سعیدہ وارثی نے اپنے استعفے میں لکھا ہے حکومت کی غزہ کے حوالے سے پالیسی ’اخلاقی لحاظ سے قابلِ دفاع نہیں ہے اور برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے اور اس کے ملک کی عالمی اور اندرونی ساکھ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعیدہ وارثی برطانوی کابینہ میں شامل ہونے سے قبل برطانوی دارالامرا کی رکن رہ چکی ہیں

سعیدہ وارثی ان دنوں وزیر برائے مذہب اور سماجی امور کے عہدے پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں اور اس سے قبل 12 مئی 2010 سے چار ستمبر 2012 تک برطانوی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کے عہدے پر کام کر چکی ہیں۔

گذشتہ دنوں ان کے عہدے میں تنزلی کر کے انھیں ایک درمیانے درجے کا وزیر مقرر کیا گیا جس کے ساتھ انھیں موجودہ عہدہ بھی دیا گیا۔

سعیدہ وارثی برطانوی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون مسلمان رکن ہیں۔

برطانوی حکمران جماعت کے کئی اراکین نے وزیرِ اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے ’اپنی پالیسی کو متوازن‘ بنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیرنس وارثی کا شمار برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا ہے اور وہ دو سال کے قریب پارٹی کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں

سعیدہ وارثی نے اپنے استعفے میں لکھا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے آسان نہیں تھا مگر جس طرح حالیہ فیصلے کیے گئے ہیں اس سے دفترِ خارجہ میں’بہت بے چینی‘ پائی جاتی ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے اس قابل ہونا چاہیے کہ میں اپنے کیے گئے فیصلوں کے ساتھ زندہ رہ سکوں اور ایسے فیصلوں کے ساتھ جن کی میں نے حمایت کی۔ اس دوران حکومت میں رہنے کے بارے میں میرے خیال سے میں وثوق سے نہیں کہ سکتی۔‘

لندن کے میئر بورس جانسن نے کہا کہ ان کے دل میں سعیدہ وارثی کے لیے ’بہت عزت ہے‘ اور کہا کہ ’انھوں نے ہمارے ساتھ بہت زبردست کام کیا اور مجھے امید ہے کہ وہ بہت جلد واپس آ جائیں گی۔‘

نائب وزیراعظم نِک کلیگ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات کوئی ’راز‘ نہیں ہے اور کابینہ میں غزہ پر مختلف آرا تھیں اور لیڈی وارثی کے خیالات بہت ’سخت‘ تھے۔

لیبر پارٹی کے رہنما پال فلین نے ٹویٹ کی کہ ’ٹوریز کی غزہ میں قتلِ عام پر بے شرم دھوکہ بازی، بدلتے موقف اور ہیر پھیر کی دھند میں سے سچائی اور ایمانداری کی ایک آواز۔ براوو بیرنس وارثی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعیدہ وارثی کے استعفے پر وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے

بیرنس وارثی نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر مزید عالمی اقدامات پر زور دیا ہے۔

انھوں نے 21 جولائی کو اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’معصوم شہریوں کے قتلِ عام کو بند ہونا چاہیے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے اور دونوں جانب تکالیف کے خاتمے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہے۔‘

تین دن بعد انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’کیا لوگ بچوں کے قتلِ عام کی توجیحات پیش کرنا بند کریں گے؟ ہماری جو بھی سیاست ہو مگر اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صرف غزہ پر دکھ ہوتا ہے۔‘

بیرنس وارثی کی ابتدائی ٹویٹ کے نیچے اگر دیکھا جائے تو اکثریت ان کے اس اقدام کی تعریف کر رہی ہے اور اس میں دنیا بھر سے لوگ شامل ہیں۔

تاہم ایک صارف نے ان سے پوچھا ہے کہ ’کیا میں آپ سے حماس کے بارے میں آپ کی رائے جان سکتا ہوں؟‘

ان کی ٹویٹ کے بعد ان کا نام اس وقت برطانیہ میں ٹوئٹر پر تیسرے نمبر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اسی بارے میں