آخری حربہ یا اپنا آخری پتہ پہلے ہی استعمال کرنے کا فیصلہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز نے ریاست کاٹسینا سے جن تین افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں 8 سے 10 سال کی دو لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کے جسموں کے بارود سے بھری بیلٹس لپٹی ہوئی تھیں۔

نائجیریا کے شدت پسند تنظیم بوکو حرام پر الزام ہے کہ وہ اب خواتین کو بھی خود کش بمباروں کی صورت میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے سے یہ خبر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک افواہ گردش کرتی رہی ہے کہ نائجیریا کے شمال میں سب سے بڑے شہر کانو میں حملے میں چار نو عمر لڑکیوں نے حملہ کیا۔ تاہم حکومت اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتی ہے کہ بوکو حرام کی جانب سے اِغوا ہونے والی 200 سے زائد طالبات کو انسانی بموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

لیکن دوسری جانب حکومت کے ہی ترجمان مائک عمیری نے اپنے بیان میں بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کانو شہر سے جڑی ریاست کاٹسینا سے جن تین افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں آٹھ سے دس سال کی دو لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کے جسموں سے بارود سے بھری بیلٹیں لپٹی ہوئی تھیں۔

جنوبی ایشیا میں سکیورٹی امور سے متعلق ادارے انسٹیٹیوٹ فار سکیورٹی سٹڈی سے منسلک محقق مارٹن ایوی کے مطابق ’خاتون خودکش حملہ آوروں کو کسی تنظیم کی جانب سے استعمال کرنا سب سے زیادہ ڈرامائی تکنیک ہے، اس کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہم عورتوں پر کم شک کرتے ہیں۔‘

خاتون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ مایوسی کی علامت بھی ہے، ایسی صورتحال کوئی تنظیم اپنے پاس موجود آخری حربہ استعمال کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بوکو حرام کی جانب سے 2011 میں پہلی بار خودکش بمبر کا استعمال ہوا جسے 4 ہزار ڈالر سے زائد کا معاوضہ دیا گیا۔

’لیکن ہم نہیں جانتے کہ بوکو حرام اس مرحلے میں پہنچ چکی ہے یا پھر اس نے اپنا آخری پتہ پہلے ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

اغوا شدہ طالبات کی رہائی کے بدلے میں جیلوں میں موجود بوکو حرام کے زیرحراست کمانڈروں کوچھوڑنے کی پیشکش پر بات چیت سے انکار سننے کے بعد بوکو حرام حکومت کو سخت پیغام دے چکی ہے۔

محقق مارٹن ایوی نے بوکو حرام کی جانب سے نائجیریا کی حکومت کو ملنے والے پیغام پر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔ ’یہ شاید ایسا کہنے کا طریقہ ہے کہ اگر قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہو گا تو آپ شاید مزید لڑکیوں کی بموں کے ساتھ واپس دیکھیں۔‘

نائجیریا میں سکیورٹی امور کے ماہر بوا عبدالٰہی وسے کا کہنا ہے کہ 2009 میں کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے اب تک بوکو حرام نے کل 11 خودکش حملے کیے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ بوکو حرام عراق اور افغانستان میں موجود جہادی گروہوں کے انداز اور حربوں کی نقالی کر رہی ہے۔

تجزیہ کار عبدالٰہی کے مطابق خودکش بمباروں کی بیرون ملک تربیت کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نائجیریا ناکام کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بوکو حرام یا تو مایوسی میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے یا پھر یا پھر اس نے انپے پاس موجود کارڈز پہلے ہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے،محقق ماٹن ایوی

محققین کا کہنا ہےکہ بوکو حرام میں صرف ان پڑھ افراد شامل نہیں ہیں بلکہ اس تنظیم کے ممبران میں کیمیا اور طبیعیات کے سند یافتہ ماہرین بھی شامل ہیں جو انجینیئرنگ چھوڑ کر بم بنانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔

سکیورٹی ماہر مسٹر بوا کہتے ہیں کہ ان میں ایسے افراد شامل ہیں جن کا مہذب گھرانوں سے تعلق ہے، اور زیادہ تر کی عمریں 18 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان میں ایسے افراد شامل ہیں جنھوں نے سول حکومت سے مایوس ہو کر بوکو حرام میں شمولیت اختیار کی ہے: ’وہ نوکری کے حصول میں ناکام ہوئے، ان کے والدین 35 سال تک سرکاری ملازمت کرنے کے بعد اپنی پینشن اور واجبات حاصل کرنے میں ناکام ہوئے۔‘

لاوارث بچے

کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار تجزیہ کار محقق مارٹن ایوی نے کیا۔ وہ کہتے ہیں بوکو حرام میں شمولیت کی وجہ محض مذہبی تحریک نہیں تھی بلکہ پیسے کا حصول بھی تھا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ 2011 میں نائجیریا کے دارلحکومت ابوجا میں پہلا خودکش حملہ کرنے والے شخص نے 24 ہزار 870 ڈالرمعاوضہ لیا۔

’وہ ایک غریب شخص تھا،اس نے ایسا اپنے چار بچوں کے لیے کیا تاکہ وہ انھیں اچھی زندگی دے سکے۔‘

مارٹن ایوی بتاتے ہیں کہ پہلے حملے کے بعد بوکو حرام نے کہا تھا کہ اس کے پاس 300 مزید خودکش بمبار ہیں جنھیں وہ اس قسم کے حملوں میں استعمال کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بوکو حرام کی جانب سے پہلح بار رواں سال جون میں خاتون خودکش بمبار کا استعمال کیا گیا۔

’زیر صہارا افریقہ کے ممالک حتیٰ کہ مسلمانوں میں بھی خودکش حملے عام نہیں، اور جب خاتون خودکش حملہ آوروں کی موجودگی میں سکیورٹی کے لیے خطرہ بھی بڑا ہوگا اور آپ کو تلاشی کے لیے قائم چوکیوں پر خاتون افسران کو تعینات کرنا پڑے گا۔‘

نائجیریا کے ایک معتبر اخبار کے مدیر اعلیٰ مانیر دان علی کا کہنا ہے کہ واضح نہیں کہ کانو میں حملہ کرنے والی خواتین خودکش بمبار کون تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک نظریہ یہ ہے کہ وہ لاوارث بچیاں تھیں جو گلیوں میں بھیک مانگتے ہیں، اور انھیں بوکو حرام نے اس وقت بھرتی کیا جب مقامی انتظامیہ نے کانو شہر کو بہتر کرنے کے لیے انھیں شہر سے باہر نکال دیا تھا۔

بوکو حرام میں خواتین ونگ

محقق مسٹر بوا کا خیال ذرا مختلف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خواتین ونگ بوکو حرام کے ممبران کی اولادوں میں سے ہو سکتا ہے: ’ہو سکتا ہے کہ ان کی دماغی تربیت ان کے والدین کی طرح کی گئی ہو۔‘

انھوں نے بوکو حرام کے پیروکاروں کے اس دعوے کا حوالہ دیا جس کے مطابق بوکوحرام مقدس جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے جنگجو جنت میں جائیں گے۔

نائجیریا میں موجود ایک تجزیہ کار نظیرو میکیلو بوکو حرام کی کانو میں کاروائیوں پر حیران نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ کہ گذشتہ برس سکیورٹی فورسز کے اس علاقے میں آپریشن سے قبل بوکو حرام کے بہت سے سرکردہ رہنما یہیں مقیم تھے۔

اگرچہ بوکو حرام نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم گنجان شہر میں موجود ان کے بہت سے رشتے دار ممکنہ طور پر خودکش حملہ آور بن چکے ہیں۔

گذشتہ ماہ نائجیرین فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بوکو حرام نے اپنا خواتین ونگ بنا رکھا ہے جس کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا تنظیم کے لیے جاسوسی کرنا اور دوسرا صفِ اول میں لڑنے والے جوانوں کے لیے بیویاں بھرتی کرنا۔

فوجی حکام کے مطابق تنظیم کے زیراستعمال ایک سیل پر حملہ کر کے حفصہ باکو نامی ایک عورت سمیت تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

خاتون کے بارے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ اس سے قبل سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہونے والے عثمان باکو کی اہلیہ ہیں۔

مسٹر مارٹن کا خیال ہے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بوکو حرام عورتوں کو استعمال کر رہی ہے ان میں سے بہت سی غریب عورتیں ہیں جنھیں معاشی مدد کی ضرورت ہے۔

’ وہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں شادی کرنے کے کے لیے،گھر کے کام کرنے کے لیے اور اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے لڑکیوں کی ضرورت ہے، اسی لیے وہ لڑکیوں کو پکڑ رہے ہیں وہ اس کی اہمیت جانتے ہیں اور اس سے بھی آگاہ ہیں کہ اس کا سماج پر کیا اثر پڑے گا۔‘

اسی بارے میں