اٹلی ایک بار پھر کساد بازاری کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption علیحدہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مئی سے جون تک صنعتی پیداوار میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے

اٹلی کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک کی معیشت مسلسل دو سہ ماہیوں میں سکڑنے کے بعد ایک با پھر کساد بازاری کا شکار ہو گئی ہے۔

جی ڈی پی یا مجموعی قومی پیداوار کی قدر سال کی دوسرے سہ ماہی میں 0.2 فیصد سکڑ گئی ہے جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ 0.1 فیصد تھی۔

اگر کسی ملک کی جی ڈی پی مسلسل دو سہ ماہیوں میں سکڑ رہی ہو تو معاشی ماہرین اس ملک کو کساد بازاری کا شکار سمجھتے ہیں۔

گذشتہ سال کے آخر میں ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ ملک کساد بازاری سے نکل رہا ہے کیونکہ آخری تین مہینوں میں اس کی معیشت میں معمولی بہتری آئی تھی۔

لیکن اس وقت کے بعد سے اٹلی کے معاشی اعداد و شمار ابتر ہو رہے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار آنے سے پہلے بات کرتے ہوئے یورپ کے معاشی ماہر ہتال مہتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اٹلی کی حکومت بہت مقروض ہے اس اسے معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔ ترقی کی سست رفتاری بہت بڑی رکاوٹ ہے۔‘

لیکن بینک آف اٹلی نے گذشتہ مہینے کہا تھا کہ سنہ 2007 میں عالمی معاشی بحران شروع ہونے کے بعد سے ملک کی معیشت نو فیصد سکڑی ہے۔

علیحدہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مئی سے جون تک صنعتی پیداوار میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے جو گذشتہ پانچ مہینوں سے زیادہ اضافہ ہے۔

جی ڈی پی میں حالیہ غیر متوقع سکڑاؤ فروری میں بننے والے وزیرِاعظم میتو رنزی کے لیے دھچکہ ہے کیونکہ اقتدار میں آنے کے وقت انھوں نے اصلاحات اور معیشت کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

لیکن یہ اصلاحات اب تک صرف کم کم آمدن والے کارکنوں کو ٹیکس سے چھوٹ دینے تک محدود ہے۔

حکومت نے سنہ 2014 کے لیے 0.8 فیصد معاشی ترقی اور جی ڈی پی میں 2.6 فیصد خسارے کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن یہ اندازے لگائے جائے رہے ہیں کہ معیشت کی بہتری کے بغیر حکومت کو یورپیئن یونین کے معیار کے مطابق خسارے کو تین فیصد سے کم رکھنے کے لیے ایک اور بجٹ کی ضرورت ہو گی۔

اسی بارے میں