تین افریقی ممالک کو حج کا ویزا نہیں ملے گا: سعودی عرب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس سال 17 اگست سے زائرین حج کی آمد شروع ہو جائے گی

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے متاثر مغربی افریقہ کے تین ممالک لائبیریا، گنی اور سیئرا لیون کے شہریوں کو حج کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں تاکہ حج کے موقعے پر اس مخصوص وائرس سے متاثرہ مسافروں کی نشاندہی کی جا سکے۔

وزارت کے بیان کے مطابق ایبولا وائرس سے متاثر ایک شخص کو الگ تھلگ رکھ کر علاج کیا جا رہا ہے۔

وہ سعودی شہری سیئرا لیون سے واپس آیا ہے۔

اس دوران عالمی ادارہ صحت بدھ کو ایبولا سے پیدا ہونے والے بحران کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس کر رہا ہے جس میں اس بات پر بحث ہوگی کہ ایبولا کو عالمی سطح پر صحت کی ایمرجنسی قرار دیا جائے یا نہیں۔

اگر ایسا ہوا تو متاثرہ ممالک کے سفر پر پابندیاں نافذ ہو جائیں گی۔

مغربی افریقہ میں حال ہی میں دریافت ہونے والے ایبولا وائرس کے انفیکشن کو اب تک کا مہلک ترین انفیکشن کہا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے

اطلاعات کے مطابق اس سال کے آغاز میں پھیلنے والے اس وائرس سے اب تک 900 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

جس برطانوی ڈاکٹر نے اس وائرس کی نشاندہی کی ہے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے متعلق حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ اس کے بارے میں تجرباتی ادویات و‎سیع پیمانے پر استعمال کیے جانے کی ضرورت ہے۔

امریکہ کے بعد جرمنی نے بھی ایبولا سے متاثرہ ممالک کے سفر کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

نائجیریا میں ایبولا سے متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے کی وجہ سے آٹھ لوگوں میں اس وائرس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس کی گرفت میں آنے والے بیشتر افراد کی موت واقع ہو گئی ہے جبکہ اس کا علاج کرنے والا ایک ڈاکٹر بھی اس وائرس کی زد میں آ گیا ہے۔

ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

امریکہ نے اپنے شہریوں کو متاثرہ ملکوں میں جانے سے باز رہنے کو کہا ہے جب کہ اس نے متاثرہ علاقوں میں 50 مزید ماہرین بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں