’اسلامی ریاست‘ کے جنگجوؤں کا قراقوش پر قبضہ، عیسائیوں کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریاستِ اسلامیہ گروپ نے عراق اور شام کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اسلامی خلافت قائم کی ہے

عراق میں عیسائی اقلیت کے سب سے بڑے قصبے کے اسلامی شدت پسندوں کے کنٹرول میں آنے کے بعد وہاں سے ہزاروں عسیائیوں کی ہنگامی نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔

’ریاستِ اسلامیہ‘ گروپ نے نینوا صوبے میں قراقوش قصبے پر گذشتہ شب کرد فورسز کے انخلا کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔

ایک بین الاقوامی عسیائی تنظیم کا کہنا ہے کہ عراق میں عیسائی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ قراقوش اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دیہاتوں سے بھاگ رہا ہے۔

ریاستِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اسلامی خلافت قائم کی ہے۔

پیش مرگ نامی کرد فورسز شمالی عراق میں سنی شدت پسندوں کے خلاف کئی ہفتوں سے لڑ رہی ہیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے عراق میں سنجار کے قصبے کے قریب پہاڑوں میں پھسے ہزاروں افراد کو ریاست اسلامیہ کے جنگجوؤں سے بچایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد خودمختار کرد علاقے کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں

گذشتہ اختتامِ ہفتہ جب ریاستِ اسلامیہ نے قوبے پر قبضہ کر لیا تو اقلیتی مذہبی گروپ یزیدیوں کے 50 ہزار افراد سنجار سے فرار ہو گئے تھے۔

فرانسیسی تنظیم فریترنیت آں عراق نے اپنے فیس بک کے صفحے پر کہا ہے کہ جب شدت پسندوں نے نینوا میں قراقوش قصبے کا کنٹرول حاصل کیا تو وہاں سے بیشتر رہائشی بچ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد خودمختار کرد علاقے کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

قراقوش موصل شہر سے 19 میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔ گذشتہ جون میں ریاستِ اسلامیہ نے موصل کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

اسی بارے میں