کمیر رُوژ رہنماؤں کو انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 1975 سے 1979 کے دوران کمیر روژ حکومت کے دوران کمبوڈیا کو زرعی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی تھی

اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ ایک ٹرائبیونل نے کمبوڈیا میں انسانیت کے خلاف جرم کے الزام میں دو کمیر رُوژ رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جن دو رہنماؤں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں نن چيا کمیر روژ کے سربراہ پول پوٹ کے نائب تھے اور كھيو سپھان ماؤنواز حکومت کے سربراہ تھے۔

وہ پہلے اعلیٰ رہنما ہیں جن کو ان کے جرائم کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کمیر روژ حکومت کے دوران تقریباً 20 لاکھ لوگ بھوک، کام کی زیادتی یا موت کی سزا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

1975 سے 1979 کے دوران اس حکومت کے دوران ملک کو زرعی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کمیر روژ حکومت کے دوران تقریباً 20 لاکھ لوگ بھوک، کام کی زیادتی یا موت کی سزا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے

اس دوران شہر خالی کرا لیے گئے تھے اور ان کے باشندوں کو جبراً دیہی کوآپریٹیو اداروں میں جھونک دیا گیا تھا۔ کئی کام کی وجہ سے ہلاک اور متعدد معیشت کی زبوں حالی کے بعد بھوک سے مر گئے۔

چار پر تشدد برسوں کے دوران کمیر روژ نے ان سب لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جنھیں وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ ان میں بہت سے دانشور، اقلیتی رہنما اور سابق افسر اور ان کے خاندان شامل تھے۔

نواون چيا کو اس حکومت کی نظریاتی طاقت سمجھا جاتا تھا جبکہ كھيو سیمپوان اس کا عوامی چہرہ تھے۔

وکلا کی دلیل تھی کہ انھوں نے پالیسیاں بنائیں اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں تعاون کیا۔

دونوں نے خود پر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے۔ گذشتہ سال اپنے آخری بیانات میں انھوں نے رنج کا اظہار تو کیا تھا لیکن کہا تھا کہ نہ تو انھوں نے قتل کا حکم دیا اور نہ ہی انھیں اس کا علم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وکلا کی دلیل تھی کہ انھوں نے پالیسیاں بنائیں اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں تعاون کیا

اسی بارے میں