ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کو صحت کی عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس برس مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے 930 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم عالمی ادارۂ صحت نے مغربی افریقہ سے پھیلنے والی بیماری ایبولا کو صحت کی بین الاقوامی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی شدت کے باعث اس کے ممکنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

یہ اعلان سوئٹزرلینڈ میں ماہرین کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

اس برس مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے 930 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا پھیلاؤ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے دیگر ممالک میں پھیلنے کے بہت سنگین نتائج ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وائرس کی مرض پیدا کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔

ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایبولا کے بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون سے بھر پور ردِ عمل ضروری ہے۔‘

ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔

جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ایبولا کے بارے میں معلومات

  • اس مرض کی علامات میں بخار، خون آنا اور مرکزی اعصابی نظام تباہ ہونا شامل ہے۔
  • مرض میں شرح اموات 99 فیصد تک پہنچ سکتی ہے تاہم اس وقت یہ 55 فیصد پر ہے۔
  • مرض کی علامات 2 سے 21 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔
  • اس مرض کے علاج کے لیے نہ ہی کوئی ویکسین دریافت ہو سکی ہے اور نہ ہی کوئی علاج ۔
  • متاثرہ مریض کو قے اور دست کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی پورا کرنےسے اس کی صحت کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔
  • یہ وائرس قدرتی طور پر چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے دیگر ممالک میں پھیلنے کے بہت سنگین نتائج ہو سکتے ہیں

اسی بارے میں