غزہ میں کون اور کہاں مارا گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہلاک ہونے والے سب سے کم عمر بچے کی عمر دس دن تھی

غزہ کے خلاف آٹھ جولائی سے شروع کیے جانے والے اسرائیل کے فضائی اور زمینی آپریشن ’پروٹیکٹیو ایج‘ میں تقریباً 1900 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

حماس کی زیرِ زمین سرنگوں اور راکٹوں کو تباہ کرنے کے اس مشن میں 66 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے 64 فوجی ہیں، جبکہ دیگر دو شہری ہیں۔

مرد، خواتین اور بچے جو ہلاک ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوام ِ متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ دفتر OCHA کے اعداد و شمار کے مطابق چھ اگست تک 1890 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مرنے والوں میں 414 بچے شامل ہیں اور 87 مرد اور خواتین ایسے ہیں جن کی عمر 60 سال یا اس سے اوپر ہے۔ ہلاک ہونے والے سب سے کم عمر بچے کی عمر دس دن تھی جبکہ سب سے بڑے کی 100 سال۔

اقوام ِ متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 200 ہے تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد 900 ہے۔

فلسطینی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد کا تعلق غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس نامی علاقے سے ہے۔

بمباری سے بچنے کے لیے بہت سے لوگوں نے اقوام ِ متحدہ کی پناہ گاہوں کا رخ کیا جس میں سکول بھی شامل تھے، تاہم اسرائیلی فوجوں نے رفح، جبالیا اور شمالی غزہ میں واقع ان سکولوں پر بھی بمباری کی۔

اسرائیلی ہلاکتوں میں دوشہری شامل ہیں جن میں سے ایک کی موت شمالی غزہ کے قریب واقع سرحدی علاقے ایریز میں ہوئی جبکہ دوسرا شخص، جس کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا، عصقلان میں مارا گیا۔

کون کہاں مارا گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں