حماس کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل پہلے غزہ کا محاصرہ ختم کرے

فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس نے جمعے کو ختم ہونے والی تین روزہ جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا بڑا مطالبہ غزہ کی بندرگاہ کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔

اسرائیل کی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمے سے تین گھنٹے قبل غزہ سے جنوبی اسرائیل میں دو راکٹ داغے گئے۔

اسرائیل فورسز نے اسے ’دہشت گردوں‘ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ بندی کے خاتمے سے تین گھنٹے قبل غزہ سے جنوبی اسرائیل میں دو راکٹ داغے گئے

جمعے کی علی الصبح یہ راکٹ کھلے میدان میں گرے جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل حماس کے عسکری دھڑے کے ترجمان نے قاہرہ میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے والے فلسطینی مذاکرات کاروں سے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی میں توسیع سے انکار کر دیں جب تک ان کے طویل المدتی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

حماس کے ترجمان نے کہا کہ ان کی تنظیم طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فورسز نے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل کے رابطے کے وزیرِ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہوئی تو اسرائیل اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دے گا۔

اس سے پہلے اسرائیل کے غزہ کے خلاف فضائی اور زمینی کارروائی میں آٹھ جولائی سے شروع کی جانے والی کارروائی میں 1,800 فلسطینی ہلاک اور67 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 1354 افراد عام شہری تھے جن میں 415 بچے اور 214 عورتیں شامل ہیں۔

اسی بارے میں