عراق: امریکہ کی بمباری جاری، محصور افراد کےلیے امداد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاست اسلامیہ کے جنگجو یہ آرٹلری کرد فورسز کے خلاف استعمال کر رہے تھے جو اربیل کا دفاع کر رہے ہیں

عراق پہ حالیہ بمباری کے بعد امریکہ نے جہازوں کے ذریعے پہاڑوں میں چھپے مقامی عراقی لوگوں کو پانی اور اشیا خوردونوش پہنچائی ہیں۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ سامان عراقی جہادی گروہوں سے چھپنے والی مقامی آبادی کو پہنچایا۔

دوسری طرف برطانیہ سے بھی ایک کارگو جہاز امدادی سامان لیے سنیچر کی صبح عراق روانہ ہوگیا ہے۔

امریکہ نے عراقی سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مل جل ایک نئی حکومت بنائیں جو کہ جہادیوں سے نمٹ سکے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے عراق میں ریاست اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کی کردستان کی جانب پیش قدمی کو روکنے کے لیے فضائی حملوں میں تیزی کر دی تھی جس کے بعد مقامی آبادی کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں پہاڑوں میں جا چھپے تھے ۔

جمعے کے روز عراق نے تصدیق کی تھی کہ ریاست اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے ملک کے سب سے بڑے ڈیم پر قبضہ کر لیا تھا۔

ملک کے سب سے بڑے پانی کے ذخیرے پر قبضے سے ریاست اسلامیہ نہ صرف ملک میں بجلی کر فراہمی کو درہم برہم کر سکتے ہیں بلکہ ڈیم کے پانی کے ذخیرے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی جیٹ طیاروں نے عراق میں ریاست اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر دوسری بار پھر بمباری کی ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے عراق کے شمالی علاقے اربیل میں ریاست اسلامیہ کی آرٹلری کو نشانہ بنایا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست اسلامیہ کے جنگجو یہ آرٹلری کرد فورسز کے خلاف استعمال کر رہے تھے جو اربیل کا دفاع کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ عراق میں ریاستِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے امریکی مفادات کو خطرے کی صورت میں ان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سنی شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے رواں سال جون میں شمالی عراق میں حملے شروع کیے تھے اور اب عراق اور شام کا خاصا حصہ ان کے قبضے میں ہے۔

ان شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ قبضے والے علاقوں میں انھوں نے اسلامی خلافت قائم کر دی ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے جون میں عراق کے شمالی شہر موصل پر قبصہ کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دریں اثنا امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف ایف اے) نے تمام امریکی فضائی کمپنیوں کو عراق کی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ایف اے اے کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق اس بات کا فیصلہ عراق میں ریاستِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اور عراق کی سکیورٹی افواج کے درمیان پیدا ہونے والی ’خطرناک صورتِ حال‘ کے بعد کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی تنبیہہ

دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے نرغے میں پھنسے پناہ گزینوں کو ہنگامی امریکی امداد تو مل رہی ہے تاہم مزید اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں ایک اندازے کے مطابق یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے 50 ہزار افراد کو دولتِ اسلامیہ نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

اس سے پہلے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عیسائی اقلیت کے سب سے بڑے قصبے قراقوش پر قبضہ کر لیا تھا۔

ادھر عراق میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کے نمائندے مارزیو بابیل کا کہنا ہے کہ عراق میں یزدی فرقے کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے شدید خطرہ ہے۔

اربل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیار گول کا کہنا ہے کہ کرد حکام عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی سے شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب ہتھیار نہ ملنے پر ناراض ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے موصل پر قبضے کے دوران بڑی مقدار میں امریکی ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے باعث انھیں اپنی پیش قدمی میں مدد ملی۔

اسی بارے میں