یزیدی کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدیوں سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننے کے باوجود یزیدی برادری نے اپنا عقیدہ ترک نہیں کیا

مشرق وسطیٰ میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کے متاثرین میں اقلیتی یزیدی برادری کے 50 ہزار افراد بھی شامل ہیں۔

یہ افراد کے عراق کے شمال مشرقی پہاڑی سلسلے میں خوراک اور پانی کے بغیر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

مصنفہ ڈائنا ڈاک نے اس پراسرار اقلیتی فرقے کے عقائد اور ان کی روزمرہ زندگی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔

اپنی مشکلات کے سبب اچانک خبروں میں آنے کے بعد بھی یزیدی بین الاقوامی توجہ نہیں چاہتے۔

ان کے غیرمعمولی عقیدے کی وجہ سے اکثر اوقات اس فرقے کو بے جا شیطان کی عبادت کرنے والا گروہ کہا جاتا ہے۔

یہ فرقہ ترکی کے جنوب مشرقی، اور شام اور عراق کے شمالی مغربی علاقوں میں روایتی طور پر چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کی کل تعداد کے بارے میں بتانا مشکل ہے تاہم کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد 70 ہزار سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے اور گذشتہ صدی کے دوران ان کی تعداد میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس خطے کے دیگر اقلیتی برادریوں، مثلاً علوی اور دروز کی طرح کوئی شخص یزیدی برادری میں باہر سے شامل نہیں ہو سکتا۔

عراقی شہر موصل کے مغرب میں واقع یزیدی برادری کے مرکزی خطے کوہ سنجار میں اس برادری کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خیال میں اس برادری کا تعلق امیہ شاہی خاندان کے ہے، جب دوسرے انتہائی غیرمقبول حکمران یزید ان معاویہ سے جوڑتے ہیں۔

جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقے کا یزید ابن معاویہ یا ایران کے شہر یزد کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم جدید فارسی لفظ ایزد سے ہے جس کا مطلب خدا۔ ایزدیز نام کا عام مطلب خدا کے عبادت کرنے والے ہیں اور یزیدی بھی اپنے فرقے کا نام اسی طرح سے بیان کرتے ہیں۔

یزیدی قرآن اور بائبل کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی روایات زبانی ہی ہیں۔ رازداری کی وجہ سے یزیدی فرقے کے بارے میں غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں کہ اس فرقے کا تعلق پارسی مذہب سے ہے، جس میں یہ روشنی اور تاریکی کے علاوہ سورج تک کی پوجا کرتے ہیں۔

موجودہ تحقیق کے مطابق اگرچہ ان کے عبادت خانے سورج کی تصاویر سے سجائے جاتے ہیں اور ان کی قبروں کا رخ مشرق کی جانب سے طلوع آفتاب کی طرف ہوتا ہے، تاہم ان کے عقیدے میں اسلام اور عیسائیت کے کئی جز شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یزیدی فرقے کا مقدس ترین مقام عراقی دارالحکومت بغداد سے 430 کلومیٹر دور لیشن میں واقع ہے

شادی کی تقریب میں یزیدی راہب روٹی دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ دلھا اور ایک حصہ دلھن کو دیتا ہے۔ شادی کی تقریب میں دلھن سرخ لباس پہنتی ہے اور چرچ جاتی ہے۔ دسمبر میں یزیدی راہب سے سرخ شراب پینے کے بعد تین دن روزہ رکھتے ہیں۔ 15 سے 20 دسمبر کے دوران یہ موصل کے شمال میں واقع شیخ ادی کے مزار پر جاتے ہیں اور وہاں دریا میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جس میں جانوروں کی قربانی بھی شامل ہے۔

اس فرقے کے خدا کو یزدان کہا جاتا ہے اور اس کا اتنا اعلیٰ مقام ہوتا ہے اس کی براہ راست عبادت نہیں کی جا سکتی۔ اسے غیر متحرک طاقت کے مالک سمجھا جاتا ہے، اور وہ زمین کا نگہبان نہیں بلکہ خالق سمجھا جاتا ہے۔

اور اس سے سات عظیم روحانی طاقتیں نکلی ہیں جن میں ایک مور فرشتہ ملک طاؤس ہے اور جو خداوندی احکامات پر عمل درآمد کراتا ہے۔ ملک طاؤس کو خدا کا ہمزاد تصور کیا جاتا ہے۔

یزیدی ملک طاؤس کی دن میں پانچ بار عبادت کرتے ہیں۔ یزیدیوں کے نزدیک ملک طاؤس کا دوسرا نام شیطان ہے، جو عربی میں ابلیس کو کہتے ہیں، اور اسی وجہ سے یزیدی فرقے کو شیطان کی عبادت کرنے والا کہا جاتا ہے۔

یزیدی عقائد کے مطابق روح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اور بار بار پیدائش کا عمل روح کو خالص بناتا ہے۔ کسی بھی یزیدی کی بدترین سزا اسے برادری سے خارج کیا جانا ہے اور اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی روح کا خالص ہونے کا عمل روک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یزیدیوں کا کسی دوسرا مذہب اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ترکی، عراق اور شام کی سرحد سے متصل دور افتادہ دیہات جو ایک عرصے سے ویران پڑے تھے، اب یزیدیوں سے آباد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان لوگوں نے وہاں اپنی مدد آپ کے تحت مکانات کی تعمیر شروع کی ہے۔ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے متعدد یزیدیوں نے واپس آنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ترکی کی حکومت نے ان کو تنگ کرنا بند کر دیا ہے۔

صدیوں سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننے کے باوجود یزیدی برادری نے اپنا عقیدہ ترک نہیں کیا۔ اگر عراق اور شام کے علاقوں سے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے یزیدی برادری کو بے دخل کر دیا تو زیادہ امکان ہے کہ یہ جنوب مشرقی ترکی میں آباد ہو جائیں اور امن سے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزاریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یزیدی فرقے کی عبادت گاہ کی ایک منظر
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یزیدی برادری کے بزرگ آج بھی روایتی سفید لباس میں ملبوس ہوتے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عبادت گاہ میں یزیدی برادری کے لڑکے اور لڑکیاں مناجاتیں گاتے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یزیدی فرقے کی عبادت گاہوں پر ملک طاؤس کی تصاویر نظر آتی ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں