اقوام متحدہ، امریکہ کا غزہ میں تشدد کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک فلسطینی باپ جس کا دس سالہ بیٹا اسرائیلی میزائیل حملے میں ہلاک ہو گیا

اقوام متحدہ اور امریکہ نے غزہ میں پھر سے تشدد کی شروعات کی مذمت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں روک کر مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی کوششیں کریں۔

جمعہ کے روز تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ سے اسرائیل علاقے میں راکٹ فائر کیے گئے جبکہ اسرائیل نے ایک بار غزہ پر میزائل حملے کیے۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ اس نے غزہ سے راکٹ فائر ہونے کے بعد حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تازہ تشدد میں پانچ فلسطینی ہلاک ہوگئے جبکہ دو اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے دوبارہ راکٹ حملے نہ صرف اسرائیل اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو غیر محفوظ بنائیں گے بلکہ اس سے فلسطینی لوگوں کی خواہشات کے مطابق امن کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

امریکی ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں فریق عارضی جنگ بندی میں توسیع کر کے مذاکرات کے ذریعے پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے کوششیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیلی شہری غزہ سے فائر ہونے والوں راکٹوں سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عام شہریوں کی مزید ہلاکتیں ناقابل برداشت ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حماس اسرائیل کی جانب سے اس کے مطالبے نہ ماننے کی وجہ سے جنگ بندی میں توسیع نہیں کی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس گزشتہ سات برسوں سے اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جسے اسرائیل تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حماس نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کو ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کے مطالبے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے دونوں فریقوں سے کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی کا احترام کریں اورقاہرہ میں دوبارہ مذاکرات کی میز پر اکھٹے ہوں۔

گزشتہ ایک ماہ سے جاری لڑائی میں 1900 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حماس کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم نہیں کرتا وہ جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہے

مصر نے، جو فلسطینی گروپوں اور اسرائیل کے مابین صلح کرانے کی کوششیں کر رہا ہے، دونوں فریقوں سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے میز پر دوبارہ واپس آئیں۔۔

ایک فلسطینی وفد نے جمعہ کو مصری مصالحت کار سے ملاقات کی۔ البتہ اسرئیل نے یہ کہہ کر مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کیا کہ وہ حماس کے حملوں کے دوران مذاکرات نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں