مصر: اخوانِ المسلمین کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption محمد مرسی کے مستعفی ہونے سے انکار پر عبدالفتاح السیسی نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں عبوری حکومت قائم کر دی تھی۔

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت نے گذشتہ ایک سال سے اسلامی تحریک اخوان اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں اخوانِ المسلمین کو شدت پسند گروہ قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

عباالفتاح السیسی نے گذشتہ سال جب وہ ملک کے فوج کے سربراہ تھے، سابق صدر محمد مرسی کو اقتدار سے برطرف کرکے قید کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ مصر کے معزول صدر محمد مرسی نے عبدالفتاح السیسی کو اگست 2012 میں ملک کا وزیرِ دفاع اور فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

تاہم صدر مرسی سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر عوامی مظاہروں کے بعد فیلڈ مارشل السیسی نے انھیں الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ عوامی خواہش کا احترام کریں ورنہ فوجی مداخلت کے لیے تیار رہیں۔

محمد مرسی کے مستعفی ہونے سے انکار پر عبدالفتاح السیسی نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں عبوری حکومت قائم کر دی تھی۔

فیلڈ مارشل السیسی نے جولائی 2013 میں عوامی مظاہروں کے بعد منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

انھوں نے ملک میں مظاہروں کے حق میں سخت پابندیوں کے قانون کا بھی نفاذ کیا۔

مارچ میں عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور صدر منتخب ہونے کے بعد ملک کی قیادت سنبھال لی تھی۔

اسی بارے میں