غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں تعطل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ پر اب تک اسرائیلی حملوں میں اب تک 1900 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کے مطابق اکثریت عام شہریوں کی ہے

غزہ میں نئی جنگ بندی کرانے کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی بات چیت تناؤ کا شکار ہے جہاں طرفین متضاد موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

فلسطینی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے بغیر کسی شرط کے بات چیت میں شرکت نہیں کی تو وہ اتوار کو مذاکرات سے چلے جائیں گے۔

دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ’راکٹ حملوں کی زد میں رہتے ہوئے مذاکرات نہیں کرے گا‘۔ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اس کے عسکری مہم میں ’وقت لگے گا۔‘

غزہ میں آٹھ جولائی کو شروع ہونے والی کشیدگی میں تقربیاً 1960 افراد ہلاک ہوئے۔ غزہ پر اب تک اسرائیلی حملوں میں اب تک 1900 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کے مطابق اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

حالیہ کشیدگی میں 67 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین عام شہری ہیں۔

جمعے کو تین دن تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے غزہ میں نئی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

دریں اثنا فلسطینی حکام کے مطابق اتوار کو غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے رات کو غزہ میں 20 اہداف کو نشانہ بنایا۔

فلسطینی حکام کے مطابق غربِ اْردن میں ہبرون کے قریب ایک مہاجر کیمپ میں بھی ایک 11 سالہ لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے تل ابیب میں اپنی کابینہ کی ہفتہ وار میٹنگ میں کہا کہ ’آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے ذریعے لمبے عرصے تک سکون حاصل کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے آپریشن سے پہلے اور آپریشن کےدوران کہا تھا کہ اس کے لیے وقت درکار ہے جس کے لیے توانائی کی ضرورت ہے۔‘

اس سے پہلے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرا خارجہ نے کہا کہ اس کشیدگی کو حل کرنے کا واحد ذریعہ مذاکرات ہیں۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ اور امریکہ نے غزہ میں پھر سے تشدد کی شروعات کی مذمت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا تھا کہ پرتشدد کارروائیوں روک کر مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی کوششیں کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ عام شہریوں کی مزید ہلاکتیں ناقابل برداشت ہیں۔

اسی بارے میں