کرد فورسز نے دو قصبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی کردستان کے مرکزی شہر اربیل میں تیل کی بین الاقوامی کمپنیوں کے صدر دفاتر موجود ہیں

عراق کے شمال میں کرد سکیورٹی فورسز نے اسلامی ریاست کے شدت پسندوں کے زیرقبضہ دو قصبے آزاد کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

کرد حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی فضائی مدد کے ذریعے مکھمور اور گویر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق شدت پسندوں پر امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے کرد سکیورٹی فورسز کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے عراق میں اسلامی ریاست کے شدت پسند ڈرامائی طور پر غیر معمولی پیش قدمی کرتے ہوئے علاقوں پر قبضہ کر رہے تھے تاہم اب امریکی فضائی حملوں سے اس پیش قدمی کو روکنے میں مدد ملے گی۔

اس سے پہلے کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود برزانی نے شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی برادری سے عسکری امداد کی اپیل کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ’ ہم دہشت گرد تنظیم سے لڑ رہے ہیں، ہم ایک دہشت گرد ریاست سے لڑ رہے ہیں، اسلامی ریاست کے شدت پسندوں کے پاس ہماری پیش مرگ فوج کے مقابلے میں زیادہ جدید ہتھیار ہیں۔‘

عراقی کردستان کے مرکزی شہر اربیل میں تیل کی بین الاقوامی کمپنیوں کے صدر دفاتر موجود ہیں اور سفارت کاروں کی بڑی تعداد یہاں رہتی ہے۔

امریکہ نے اربیل اور بغداد سے بعض سفاروں کاروں اور تیل کمپنیوں کے ملازمین کو جنوبی بغداد اور اردن منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق میں اقلیتی یزیدی فرقے کے افراد آئی ایس کے شدت پسندوں کے نرغے میں ہیں

دوسری جانب فرانس کے وزیرِ خارجہ لوراں فیبیوس نے کہا ہے کہ عراق کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے ’وسیع البنیاد قومی حکومت‘ کی ضرورت ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ عراق میں دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے عراق کے دورے پر ہیں۔

ان کا دورۂ عراق امریکہ کی جانب سے آئی ایس کے جنگجوؤں کے خلاف تیسرے فضائی حملے کے بعد شروع ہوا ہے۔

اتوار کی صبح عراق پہنچنے کے بعد فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عراق میں وسیع تر قومی حکومت بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام عراقیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس حکومت میں اور ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی نمائندگی ہے۔

لوراں فیبیوس اپنے دورۂ عراق کے دوران کردش شہر اربیل کا بھی دورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ عراق میں اقلیتی یزیدی فرقے کے افراد آئی ایس کے شدت پسندوں کے نرغے میں ہیں۔

دوسری جانب امریکہ، فرانس اور برطانیہ اقلیتی یزیدی فرقے کے افراد کے لیے کھانے پینے کی اشیا ہوائی جہازوں کے ذریعے پہنچا رہے ہیں۔

اقلیتی یزیدی فرقے کے ہزاروں افراد نے گذشتہ ہفتے آئی ایس کے شدت پسندوں کی سنگجار کی جانب پیش قدمی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے پہاڑوں پر پناہ لے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران آئی ایس کے جنگجوؤں نے عراق اور شام میں بہت بڑے علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں ’خلافت‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر باراک اوباما نے عراق میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ عراق اور شام میں موجود جہادی جنگجوؤں کو ’اسلامی ریاست‘ بنانے نہیں دیں گے۔

امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ وہ عراق اور شام میں موجود جہادی جنگجوؤں کو اس وقت تک ’اسلامی ریاست‘ قائم نہیں کرنے دیں گے۔

عراق کی موجودہ حکومت آئی ایس کے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

عراق کے سیاستدان رواں برس اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

ان انتخابات میں عراقی وزیرِ اعظم نورالمالکی اور ان کے اتحادیوں نے جیتا تھا۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس کے جنگی جہازوں اور مسلح ڈرون طیاروں نے آئی ایس کی بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں سے اقلیتی یزیدی فرقے کے لوگوں پر فائرنگ کی جا رہی تھی۔

ادھر برطانوی حکام کے اندازے کے مطابق عراق میں 50,000 سے 150,000 افراد محصور ہو سکتے ہیں جنھیں فاقہ کشی کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق کم سے کم 56 یزیدی بچے اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک شامی اہکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ 20,000 سے زائد یزیدی فرقے کے افراد نے بھاگ کر سرحد عبور کی ہے۔

اسی بارے میں