مصری افواج نے منصوبے کے تحت ’قتلِ عام کیا‘: ہیومن رائٹس واچ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کا کہنا ہے کہ حالیہ تاریخ کے دوران ایک روز میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مصر میں گذشتہ برس سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 187 افراد کی ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

ادارے کے مطابق مصر میں رابعہ العدویہ مسجد کے قریب ایک دن میں ایک ہزار یا اس سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ تاریخ میں ایک روز میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔

خیال رہے کہ کینتھ روتھ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پیر کو مصر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے ان ہلاکتوں کے بارے میں مصر کے دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کرنی تھی تاہم انھیں قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے 12 گھنٹے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔

بین الاقوامی ادارے نے مصر میں ایک برس کے دوران تحقیقات کیں اور گذشتہ برس جولائی اور اگست کے دوران ہونے والے چھ مظاہروں کے دوران ہونے والے ہلاکتوں پر توجہ مرکوز کی۔

ادارے کے مطابق مصر میں اس وقت سکیورٹی فورسز کی کمان موجود صدر عبدالفتاح السیسی کے پاس تھی۔

خیال رہے کہ السیسی مئی 2014 میں مصر کے صدر منتخب ہوئے تھے اور انھوں نے 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی پولیس اور فوج نے محمد مرسی کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد مظاہرین پر جان بوجھ کر فائر کھولا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مصر کی رابعہ العدویہ مسجد کے باہر 14 اگست سنہ 2013 میں اس وقت ہزاروں افراد جمع تھے جب مصری افواج نے مظاہرین کے کیمپ پر دھاوا بولا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی پولیس اور فوج نے محمد مرسی کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد مظاہرین پر جان بوجھ کر فائر کھولا تھا

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس روز مسجد کے باہر ایک اندازے کے مطابق کم سے کم 817 افراد تشدد کے دوران مارے گئے، تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد ایک ہزار یا اس سے زائد تھی۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا بڑا امکان ہے کہ یہ ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

کینتھ روتھ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف ضرورت سے زیادہ طاقت کا مظاہرہ یا ناقص تربیت کا نتیجہ نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا: ’مظاہرین کے خلاف ہونے والے تشدد کا منصوبہ مصری حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بنایا گیا اور ان میں سے کئی افراد اس وقت بھی مصری حکومت کا حصہ ہیں جنھیں بہت سی باتوں کا جواب دینا ہے۔‘

دوسری جانب مصری حکومت نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا ابھی تک نہ کوئی جواب دیا ہے اور نہ ہی کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ادھر ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی سربراہ سارا ویٹسن کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کو ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنا پر سے ملک بدر کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مصری حکام نے ادارے کے کسی اہلکار کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے منع کیا ہے۔

اسی بارے میں